Bharat Express DD Free Dish

Delhi Air Pollution: دیوالی کے بعد آلودگی کی جیل بنی دہلی! کیا شہر کا جغرافیہ ہی زہریلی ہوا کا سب سے بڑا ذمہ دار ہے؟ پڑھیے تفصیلی جائزہ

دہلی کی ہوا کو زہریلا بنانے میں اس کا جغرافیہ بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ دہلی کا جغرافیہ آلودگی کو ایک قید خانے کی طرح روک دیتا ہے، جس کی وجہ سے دہلی دنیا کی سب سے زیادہ آلودہ راجدھانی بن جاتی ہے۔

دہلی میں یکم نومبر سے نان-بی ایس-6 پر پابندی۔

دیوالی کے بعدسے ہی دہلی کی ہوا زہریلی ہو گئی ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ لوگ بغیر ماسک کے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ دھند اور کہرے کی وجہ سے دہلی کی ہوا سانس لینے کے قابل نہیں رہی۔ آج دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 305 سے تجاوز کر گیا ہے، جو عام طور پر ’’انتہائی خراب‘‘ کی درجہ بندی میں آتا ہے۔لیکن دہلی کا یہ آلودگی بحران صرف پرالی جلانے یا پٹاخے چھوڑنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ دہلی کی ہوا کو زہریلا بنانے میں اس کا جغرافیہ بھی بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ ماہرین کے مطابق دہلی کا جغرافیہ آلودگی کو ایک قید خانے کی طرح روک دیتا ہے، جس کی وجہ سے دہلی دنیا کی سب سے زیادہ آلودہ دارالحکومت بن جاتی ہے۔

دہلی کا جغرافیہ کیا ہے؟

راجدھانی دہلی انڈو-گنگا میدان میں واقع ہے۔ یہ شمال میں ہمالیہ کے دامن سے لے کر جنوب اور جنوب مغرب میں  اراولی کی پہاڑیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ دہلی کی جغرافیائی ساخت ایک پیالے کی مانند ہے، جس کے چاروں طرف اونچی اونچی ساختیں موجود ہیں۔ شمال میں ہمالیہ، جنوب اور جنوب مغرب میں اراولی، جبکہ مغرب میں مالوا کا سطح مرتفع ہے۔ یہ تینوں سمتوں سے دہلی کی ہوا کو قید کر لیتے ہیں، جس کی وجہ سے آلودہ ہوا دہلی کے اوپر ہی منڈلاتی رہتی ہے۔

درجہ حرارت اور ہوا کی سمت بھی ذمہ دار

سردیوں کے موسم میں دہلی کا جغرافیہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ سردی کے دوران ٹیمپریچر انورجن کا عمل ہوتا ہے، جہاں زمین کے نزدیک ٹھنڈی ہوا کے اوپر گرم ہوا کی ایک تہہ بن جاتی ہے۔ یہ بالکل چائے کی کیتلی کے ڈھکن کی طرح کام کرتی ہے، جو آلودہ ہوا کو اوپر اٹھنے سے روکتی ہے، نتیجتاً آلودگی زمین کے نزدیک جمع ہو کر فضا کو زہریلا بنا دیتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read