Bharat Express DD Free Dish

Ahmedabad Plane Crash

احمد آباد طیارہ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر مسلسل راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔ اسی دوران ملبے سے تیسرے دن ایک لاش برآمد ہوئی ہے، جو طیارے کے آخری حصے میں پھنسی ہوئی تھی۔ این ڈی آر ایف (NDRF) کی ٹیم نے لاش کو نکالا۔ فی الحال لاش کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گجرات کے احمد آباد میں ایئر انڈیا کا طیارہ ٹیک آف کے چند سیکنڈ بعد ہی حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طیارے میں 242 افراد سوار تھے، جن میں سے صرف 1 شخص زندہ بچ سکا۔

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ سبھی مہلوکین (جن میں بی جے میڈیکل کالج کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس بھی شامل ہیں) کے اہل خانہ کو 50 لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ دے۔

سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے کہا کہ ’’اپنے کیرئیر میں 10 سال سول ایوی ایشن میں کام کرنے اور تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد میں بھی حیران ہوں کہ دنیا کا محفوظ ترین طیارہ 52 سیکنڈ میں کیسے جل کر راکھ ہو گیا۔‘‘

بھروچ باشندہ بھومی اگر 10 منٹ تاخیر سے ایئرپورٹ نہیں پہنچتیں، تو وہ بھی طیارہ حادثہ کی شکار بن جاتیں۔ بھومی نے میڈیا کو بتایا کہ ٹریفک جام میں پھنسنے کے سبب وہ تاخیر سے پہنچیں اور فلائٹ چھوٹ گئی۔

وجے روپانی کے دور کو گجرات کی ترقی میں اہم مانا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں ’ایز آف لیونگ‘ جیسے اقدامات نے نہ صرف ریاست کی معاشی ترقی کو تیز کیا بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بھی آسان بنایا۔ ان کی سادگی اور عوام کے تئیں حساسیت نے انہیں ایک مقبول لیڈر بنا دیا۔

جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد پی ایم مودی احمد آباد سول اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی صحت کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ اس دوران گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل، مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو اور ریاستی وزیر داخلہ ہرش سنگھوی بھی وزیر اعظم مودی کے ساتھ موجود تھے۔

ایئر انڈیا کے طیارے نے جمعرات کے روز دوپہر 1:38 بجے احمد آباد سے لندن کے لیے اڑان بھری تھی، جس میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔ طیارہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے سے کچھ فاصلے پر اسپتال کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا اور اس میں آگ لگ گئی۔ اب تک کل 241 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

پی ایم مودی صبح 8:30 بجے احمد آباد ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں سے وہ جائے حادثہ پر گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تقریباً 20 منٹ تک جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں سے معلومات لی۔ اس کے بعد وہ احمد آباد کے سول اسپتال گئے، جہاں انہوں نے زخمیوں سے ملاقات کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور زندہ بچ جانے والے واحد مسافر وشو کمار رمیش سے بھی بات کی۔

اسرائیل کی جانب سے ایران پر شدید حملے کے بعد ایران، تہران اور شام کی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ جب پرواز ایرانی فضائی حدود کے قریب پہنچی تو پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے رابطہ کیا