Bharat Express DD Free Dish

Adani Enterprises

اڈانی پورٹس کے بین الاقوامی بندرگاہی کاروبار نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس شعبے کی آمدنی 80 فیصد بڑھ کر 1,747 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ EBITDA میں 256 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 730 کروڑ روپے رہا۔کمپنی کے مطابق یہ ترقی بنیادی طور پر آسٹریلیا اور کولمبو میں بہتر کارکردگی کی بدولت ممکن ہوئی، جو اس کے بین الاقوامی پورٹ فولیو کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔

ایئرلائن شروع کرنے کی چہ مگوئیاں اس وقت تیز ہو گئی تھیں جب ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ نے حکومت سے نجکاری سے متعلق ایک موجودہ ضابطے میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضابطے کے تحت دہلی اور ممبئی جیسے بڑے ہوائی اڈوں کا آپریشن کرنے والی کمپنیوں کو کسی شیڈولڈ ایئرلائن میں 10 فیصد سے زیادہ حصہ داری رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

اڈانی گروپ کے مطابق اس رجسٹریشن سے لندن میٹل ایکسچینج کے ڈلیوری بیس میں بھی اضافہ ہوگا اور عالمی کاپر مارکیٹ میں معیار، رسد اور جغرافیائی تنوع کو مزید فروغ ملے گا۔1.2 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے قائم کَچھ کاپر کا جدید پلانٹ سالانہ پانچ لاکھ ٹن پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے دنیا کے سب سے بڑے سنگل لوکیشن کسٹم کاپر اسمیلٹنگ کمپلیکسز میں شمار کیا جاتا ہے۔

اڈانی گروپ کے اشتراک سے مجوزہ مربوط ایلومینیم ویلیو چین منصوبہ اوڈیشہ میں اب تک کی سب سے بڑی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) ثابت ہونے کی توقع ہے، جس سے کان کنی، ریفائننگ، اسمیلٹنگ اور ڈاؤن اسٹریم مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً 53,500 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس شراکت داری کے تحت جبیل کی جدید انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ مہارت کو اڈانی گروپ کے وسیع انفراسٹرکچر نیٹ ورک، گرین انرجی پورٹ فولیو، لاجسٹکس صلاحیت اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیٹا سینٹر کاروبار کے ساتھ جوڑا جائے گا، تاکہ دنیا بھر میں اے آئی سے لیس ڈیٹا سینٹر ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

شجرکاری پروگرام کے تحت کان کنی کے دوران کاٹے جانے والے ہر ایک درخت کے بدلے 40 نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس مہم میں سال، مہوا، تیندو، املتاس اور سدھا جیسے مقامی انواع کے درختوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح تقریباً 88 فیصد رہی ہے،

بھارت اس وقت تیزی سے پمپڈ اسٹوریج صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور آندھرا پردیش اس شعبے میں ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اڈانی گروپ بھی اپنی قابل تجدید توانائی حکمت عملی کے تحت آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اتر پردیش میں ایسے کئی منصوبوں کو وسعت دے رہا ہے۔

بھٹوریا کے مطابق ان قانونی معاملات کے خاتمے سے ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے اور اس سے عالمی بازار میں سرگرم ہندوستانی کمپنیوں کے بارے میں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ انہوں نے امریکہ میں اڈانی گروپ کی مجوزہ 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو امریکی بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے “گیم چینجر” قرار دیا۔

دوسری جانب گھریلو شیئر بازار میں بھی مثبت ماحول دیکھنے کو ملا۔ سینسیکس اور نفٹی میں صبح کے کاروبار کے دوران تقریباً 0.5 فیصد تک اضافہ درج کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بازار کو سہارا دیا۔ بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی قانونی کارروائی ختم ہونے سے اڈانی گروپ کے شیئرز پر موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

اتر پردیش کی اہم ترین گنگا ایکسپریس وے پروجیکٹ میں ٹول آپریشن کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ بدایوں ضلع میں کلومیٹر 146 پر قائم ٹول بوتھ کا ٹرائل آج کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ یہ ٹول بوتھ اڈانی انٹرپرائزز کے زیرِ اہتمام بنایا گیا ہے اور جدید اور اسمارٹ ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔