Bharat Express DD Free Dish

26/11 Mumbai attack

تہور رانا کوبھارت کے حوالے کرنے کے فیصلے کے بعد، انہوں نے امریکی سپریم کورٹ میں ایک ہنگامی درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ام کی ہیبیس کارپس کی درخواست کی سماعت نہیں ہو جاتی

ممبئی حملوں کے ملزم تہور رانا کو ہندوستان لانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ امریکی کورٹ نے اس کی عرضی خارج کردی، جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر مجھے ہندوستان بھیجا گیا تومیں وہاں زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکوں گا۔

یاد رہے کہ 26 نومبر 2008 کو لشکر کے 10 دہشت گرد سمندر کے راستے ممبئی میں داخل ہوئے اور ایسا دھماکہ کیا کہ شہر لرز اٹھا۔ دہشت گردوں نے 9 مقامات پر دھماکے کیے جن میں سے 8 جنوبی ممبئی میں تھے

امریکی ایف بی آئی نے رانا کو 2009 میں شکاگو سے گرفتار کیا تھا۔ وہ ہندوستان میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے آپریٹو کے طور پر کام کر رہا تھا۔ حملے کے کلیدی ماسٹر مائنڈ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو رانا نے ہی حملے کی منصوبہ بندی کرنے اور ریکی کرنے میں مدد کی تھی۔

تہور رانا کی حوالگی کے حوالے سے امریکی عدالت کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے اس کے خلاف کافی ثبوت پیش کئے ہیں۔ اس پر آئی ایس آئی اور لشکرطیبہ کے سرگرم رکن ہونے کا الزام ہے۔

تہوررانا سال 2008 کے ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں وانٹیڈ ہے۔ وہ پاکستانی نژاد کا کناڈائی تاجرہے۔ اس پرہندوستان کی اقتصادی راجدھانی ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں شامل دہشت گرد تنظیم کو مدد دینے کے بھی سنگین الزام ہیں۔

سولڈیراتھون میں 10 کلو میٹر اور 5 کلو میٹر کی دو ریس کا انعقاد کیا گیا۔ جسے جنرل وی کے سنگھ اور سی ایم ڈی اوپیندر رائے نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس ریس میں 7 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

پی ایم مودی نے اپنے اس انتخابی ریلی میں کئی بار پاکستان کا نام لیا ۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ  پاکستان میں دہشت گرد ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان کررہا ہے تووہیں کانگریس یہاں مودی کے خلاف ووٹ جہاد کا اعلان کررہی ہے۔

لشکر کے دہشت گرد قیصر فاروق کو کراچی میں گولی مار کر ہلاک کرنے کی خبر اور ویڈیو اس دعوے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے کہ حافظ سعید کا بیٹا لاپتہ ہو گیا ہے اور آئی ایس آئی اسے تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رانا نے جون میں امریکی عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کی تھی جس میں اسے ہندوستان کے حوالے کرنے کی امریکی حکومت کی درخواست کو قبول کیا گیا تھا۔