Bharat Express DD Free Dish

2026 FIFA World Cup

اسپین اور پرتگال کے درمیان بین الاقوامی فٹ بال کی یہ تاریخی رقابت ایک صدی سے زائد پرانی ہے اور ورلڈ کپ کے گزشتہ پانچ ایڈیشنز میں یہ دونوں ٹیمیں تیسری مرتبہ ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جس سے اس مقابلے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

انگلینڈ نے اپنی حکمت عملی کو خفیہ رکھنے کے لیے کینساس سٹی میں واقع اپنے ٹریننگ بیس سے آخری وقت میں میکسیکو سٹی روانہ ہونے کا فیصلہ کیا تھا، تاکہ مخالف ٹیم کو ان کی تیاریوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہ مل سکیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے  اس منصوبے کے باوجود جیسے ہی ٹیم کی بس ہوٹل کے باہر پہنچی، بڑی تعداد میں موجود میکسیکن شائقین نے ہوٹنگ اور نعرے بازی کے ذریعے کھلاڑیوں کا استقبال کیا۔

 میسی ورلڈ کپ کے دو مختلف ایڈیشنز میں سات، سات گول کرنے والے پہلے فٹبالر بھی بن گئے ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں بھی وہ سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ فرانس کے اسٹار اسٹرائیکر کائلیان ایمباپے ان کے قریب ہیں،

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پرتگال نے کروشیا کو 2-1 سے شکست دے کر راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنا لی۔ کرسٹیانو رونالڈو نے پنالٹی پر گول کرتے ہوئے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں اپنے کیریئر کا پہلا گول اسکور کیا اور ایک نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔

میچ کے آخری لمحات میں مراکش نے زبردست واپسی کی۔ انجری ٹائم کے پہلے ہی منٹ، یعنی 91ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی شیمس الدین طالبی کےعمدہ کراس پرمرکزی دفاعی کھلاڑی عیسیٰ دیوپ نے ہیڈر کے ذریعے گول کرکے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا اور اپنی ٹیم کو شکست سے بچا لیا۔

میچ کے آغاز سے ہی جنوبی افریقہ نے جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے کینیڈا کے دفاع پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  وہ اپنے مواقع کو گول میں تبدیل نہ کر سکی۔دوسری جانب پہلے ہاف کے آخری لمحات میں کینیڈا کو دو سنہری مواقع ملے، لیکن وہ بھی ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔

کیپ وردے نے 3 پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسری پوزیشن حاصل کی، جو دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن یوراگوئے اور 2034 فیفا ورلڈ کپ کے میزبان سعودی عرب سے ایک پوائنٹ زیادہ تھے۔ اب اس کا مقابلہ 3 جولائی، جمعرات کو میامی اسٹیڈیم میں لیونل میسی کی قیادت میں اسٹار کھلاڑیوں سے سجی ارجنٹائن کی ٹیم سے ہوگا۔

میچ کے آغاز ہی سے سینیگال نے کھیل پر مکمل گرفت قائم رکھی۔ حبیب دیارا نے ایک ڈیفلیکٹڈ شاٹ پر گول کر کے ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی۔ اس کے بعد عراق کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ گئیں جب 13ویں منٹ میں سادیو مانے پر فاؤل کے واقعے کا وی اے آر سے جائزہ لینے کے بعد عراقی ڈیفنڈر ریبن سلاکا کو ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔

میچ کا آغاز امریکہ کے لیے بہترین رہا۔ صرف 2 منٹ 13 سیکنڈ میں آسٹن ٹرسٹی نے سیباسٹین برہالٹر کے کارنر پر شاندار ہیڈر کے ذریعے گول کرکے امریکہ کو 0-1 کی برتری دلا دی۔ یہ فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں امریکہ کا دوسرا تیز ترین گول تھا۔ اس سے قبل 2014 میں کلنٹ ڈیمپسی نے گھانا کے خلاف صرف 30 سیکنڈ میں گول کیا تھا۔

میچ کے 62ویں منٹ میں یان پال فان ہیکے نے نیدرلینڈز کی جانب سے تیسرا گول اسکور کیا، جس کے بعد اسکور 1-3 ہو گیا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز نے دفاعی کھیل مضبوط رکھا اور تیونس کو مزید کوئی موقع نہیں دیا