ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کارآل راونڈرکی اہلیہ اورگجرات حکومت میں وزیرروابا جڈیجہ ایک بار پھر اپنے بیان سے متعلق سرخیوں میں ہیں۔ روابا جڈیجہ نے ایک پروگرام میں ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں پرایسا الزام لگایا ہے، جس نے دنیائے کرکٹ میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ ان کا تبصرہ سوشل میڈیا پرتیزی سے پھیل رہا ہے اورفینس سے لے کرایکسپرٹس تک سبھی اس پراپنے ردعمل کا اظہارکررہے ہیں۔
روابا جڈیجہ کا ہندوستانی ٹیم پرسنسنی خیز الزام
پروگرام کے دوران اپنے شوہرکی ایمانداری اورنظم وضبط (ڈسپلن) کی تعریف کرتے ہوئے روابا نے اچانک باقی ہندوستانی کھلاڑیوں پرتنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جڈیجہ دنیا کے کئی ممالک لندن، دبئی، آسٹریلیا میں کھیلنے جاتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ کبھی کسی غلط عادت یا لت میں نہیں پڑے۔ اس کے بعد روابا جڈیجہ نے سنسنی خیزالزامات لگاتے ہوئے کہا، ”ٹیم کے باقی سارے کھلاڑی بیرون ملک جاکرغلط کام کرتے ہیں۔“ ان کے اس بیان نے سبھی کوحیران کردیا ہے کیونکہ یہ راست طورپرٹیم انڈیا کے ڈریسنگ روم کی تہذیب پرسوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ رویندرجڈیجہ چاہیں تووہ بھی وہی سب کرسکتے ہیں۔ ان کومجھ سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ حالانکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اورہمیشہ نظم وضبط میں رہتے ہیں۔
کرکٹ مداحوں میں ہلچل
روابا جڈیجہ کے بیان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ردعمل کا سیلاب آگیا۔ یہ پہلی بارنہیں ہے جب روابا جڈیجہ کسی متنازعہ بیان سے متعلق سرخیوں میں آئی ہین، لیکن اس بار معاملہ کرکٹروں سے جڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ معاملہ کافی بڑا ہوگیا ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں نئی ٹیم میں نظرآئیں گے جڈیجہ
روابا جڈیجہ کے بیان کے درمیان کرکٹ سے متعلق ایک بڑی خبربھی سامنے آئی تھی۔ آئی پی ایل 2026 میں رویندرجڈیجہ راجستھان رائلس کی جرسی میں نظرآئیں گے۔ گزشتہ سیشن تک چنئی سپرکنگس کا حصہ رہے رویندرجڈیجہ کوایک بڑے ٹریڈ میں راجستھان نے اپنے ساتھ جوڑا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رویندرجڈیجہ نے 2008 میں آئی پی ایل ڈیبیوبھی راجستھان کی طرف سے ہی کیا تھا۔ یعنی وہ ایک بارپھراپنی پہلی فرنچائزی میں واپسی کررہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
