Bharat Express DD Free Dish

PCB Seized Players Phones: پاکستانی کھلاڑیوں کے فون ضبط! پی سی بی کے اقدام سے ہلچل، فکسنگ کی بحث کیوں شروع ہوئی؟

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے، لیکن میدان کے بجائے ٹیم سے متعلق ایک فیصلہ زیادہ زیر بحث آگیا ہے۔ ایجبسٹن میں سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ پڑھیں پوری خبر۔

انگلینڈ کے دورے پر موجود پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کے موبائل فون پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ بورڈ نے یہ قدم کیوں اٹھایا اور فون ضبط کیے جانے کے بعد میچ فکسنگ کی بحث کیوں شروع ہوگئی۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے موبائل فون پی سی بی نے لیے قبضے میں

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے، لیکن میدان کے بجائے ٹیم سے متعلق ایک فیصلہ زیادہ زیر بحث آگیا ہے۔ ایجبسٹن میں سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ فون ٹیسٹ میچ ختم ہونے تک بورڈ کے پاس ہی رہیں گے۔

تاہم، کن کھلاڑیوں کے فون لیے گئے ہیں اور اس کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے، اس بارے میں PCB کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستانی نیوز چینل 365 نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ٹیم کے ارکان نے اپنے موبائل فون PCB کے حوالے کر دیے ہیں۔ بورڈ کا یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد کرکٹ کی دنیا میں مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ آیا یہ معمول کے ٹیم پروٹوکول کا حصہ ہے یا بورڈ کسی خاص معاملے کو لے کر محتاط ہے۔

میچ فکسنگ کی بحث کیوں شروع ہوئی؟

کھلاڑیوں کے فون ضبط کیے جانے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ اور بدعنوانی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔ تاہم، فی الحال ایسا کوئی ثبوت یا باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ پاکستان ٹیم کے کسی کھلاڑی پر فکسنگ یا سٹے بازی کا شبہ ہے۔

PCB نے بھی اب تک کسی طرح کی بدعنوانی کی تحقیقات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس لیے فون ضبط کیے جانے کو براہ راست فکسنگ یا سٹے بازی سے جوڑنا فی الحال قیاس آرائی ہی ہوگی۔

ICC کے قوانین کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی کرکٹ میں موبائل فون کے استعمال سے متعلق ICC کے قوانین پہلے ہی کافی سخت ہیں۔ میچ کے دوران ڈریسنگ روم اور دیگر ممنوعہ علاقوں میں کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو موبائل فون یا مواصلاتی آلات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایسے علاقوں میں داخل ہونے سے قبل فون جمع کرانے ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد کھلاڑیوں کے غیر مجاز رابطے کو روکنا اور میچ کی شفافیت برقرار رکھنا ہے۔

تاہم، کسی میچ کے دوران فون جمع کرانے اور کئی دنوں تک بورڈ کے پاس فون رکھے جانے میں فرق ہے۔ ICC کے اینٹی کرپشن قوانین کے تحت اگر کسی مجاز افسر کے پاس کسی ڈیوائس میں تحقیقات سے متعلق معلومات موجود ہونے کی معقول بنیاد ہو تو وہ فون یا اس میں موجود ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

اس میں کال ریکارڈ، پیغامات، چیٹس، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر الیکٹرانک معلومات شامل ہوسکتی ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ڈیوائس کا پاس کوڈ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

فی الحال PCB کی جانب سے اس اقدام کی حتمی وجہ واضح نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے جب تک بورڈ کی طرف سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آتی، فون ضبط کیے جانے اور فکسنگ کے درمیان کسی براہ راست تعلق کے بارے میں حتمی نتیجہ نکالنا مناسب نہیں ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read