Bharat Express DD Free Dish

PCB

پاکستان کرکٹ ٹیم ان دنوں انگلینڈ کے دورے پر ہے، لیکن میدان کے بجائے ٹیم سے متعلق ایک فیصلہ زیادہ زیر بحث آگیا ہے۔ ایجبسٹن میں سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کے موبائل فون اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ ایسا کیوں کیا گیا؟ پڑھیں پوری خبر۔

لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اوپنر امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس جعفر اور خرم شہزاد کو ٹیم سے ریلیز کرکے پاکستان واپس بلا لیا ہے۔

انگلینڈ کے خلاف چل رہی ٹسٹ سیریزکے آخری مقابلے سے پہلے پاکستانی ٹیم میں کئی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کوچ بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرفرازخان انگلینڈ میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ جڑے رہیں گے، لیکن ان کے چیف کوچ کو ہٹا دیا جائے گا۔

پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان اور تجربہ کار آل راؤنڈر ندا ڈار نے کرکٹ سے غیر معینہ مدت کے وقفے کے بعد دوبارہ پیشہ ورانہ کرکٹ میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ ندا نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) کے ذریعے اپنی واپسی کی خوشخبری مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔

پی سی بی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس معاملے سے متعلق پی سی بی کو آگاہ کیا ہے اور بورڈ نے فوری طور پر ضابطے کے مطابق کارروائی شروع کر دی ہے۔ تحقیقات کے نتائج آئی سی سی کو بھیج دیے جائیں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل 2026 کے فرنچائز سے جڑے عمل میں مضبوط شرکت پاکستان کے کرکٹ ایکو سسٹم پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

سرفراز نے مجموعی طور پر 100 بین الاقوامی میچز میں پاکستان کی قیادت کی۔ انہوں نے بطور کپتان 37 ٹی20، 50 ون ڈے اور 13 ٹیسٹ میچز میں ٹیم کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان ٹی20 رینکنگ میں ٹاپ پر پہنچا اور مسلسل 11 ٹی20 سیریز جیت کر عالمی ریکارڈ بنایا۔

ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے درمیان ایک بڑا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے ایک کھلاڑی پر سری لنکا میں ہوٹل اسٹاف کے ساتھ خراب برتاو کرنے کا الزام لگا ہے، جس کے بعد اسے جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

کنیریا نے بھارت-پاکستان میچوں کے نفسیاتی چیلنج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ٹیم ذہنی طور پر نو-کانٹسٹ کی صورتحال کے لیے تیار ہوتی ہے اور اچانک ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچ کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، تو یہ اچانک تبدیلی دونوں ٹیموں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت کے اعلان کے بعد آئی سی سی نے اتوار کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے پی سی بی سے باہمی رضامندی کے ساتھ مسئلے کا حل نکالنے کی اپیل کی تھی۔