Bharat Express DD Free Dish

اسپورٹس

شبھم پنڈیر نے 121 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، جب کہ یاور حسن خان نے 88 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ ساحل لوترا، کنہیا ودھاون اور کپتان پارس ڈوگرا نے 70، 70 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کا مجموعہ 584 رنز تک پہنچا دیا۔

انہوں نے صرف بیٹنگ ہی نہیں بلکہ بولنگ میں بھی عمدہ کارکردگی دکھائی اور تین اوورز میں 28 رنز دے کر دو اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے نہ صرف انگلینڈ کو کامیابی دلائی بلکہ پاکستان کرکٹ ٹیم اور اس کے کروڑوں شائقین کے لیے بھی خوشخبری ثابت ہوئی۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر-8 مرحلے میں بھارتی کرکٹ ٹیم اپنا آخری اور نہایت اہم مقابلہ یکم مارچ کو کولکاتا کے تاریخی میدان ایڈن گارڈنز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی۔ اس میچ کو دونوں ٹیموں کے لیے ’’کرو یا مرو‘‘ مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ فاتح ٹیم سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگی، جبکہ شکست کھانے والی ٹیم کا سفر یہیں ختم ہو سکتا ہے۔

بھارت اگر سیمی فائنل میں جگہ بنانا چاہتا ہے تو اسے ہر حال میں ویسٹ انڈیز قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف فتح حاصل کرنا ہوگی۔ کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کھیلے جانے والے اس اہم مقابلے میں جو ٹیم کامیاب ہوگی وہ براہِ راست سیمی فائنل میں پہنچ جائے گی۔

پاکستان کے اس وقت ایک پوائنٹ ہے۔ اگر پاکستان ہفتہ کے روز سری لنکا کے خلاف اپنے میچ میں بڑی کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو اس کے بھی تین پوائنٹس ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر پاکستان سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی رنکو سنگھ کے والد خان چند سنگھ کا جمعہ کی صبح انتقال ہوگیا۔ وہ گزشتہ عرصے سے جگر کے کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور ان کی حالت گزشتہ چند ہفتوں سے تشویشناک بنی ہوئی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق بیماری آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی جس کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا ہوا تھا۔

بھارت کی جانب سے ارشدپ سنگھ سب سے کامیاب گیندباز رہے جنہوں نے 24 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیے، جبکہ ورون چکرورتی، اکشر پٹیل اور شیوم دوبے نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

کپتان ایڈن مارکرم نے کوئنٹن ڈی کوک کے ساتھ پہلے وکٹ کے لیے 8 اوورز میں 95 رنز کی شاندار شراکت قائم کی۔ کوئنٹن ڈی کوک نے 24 گیندوں پر 4 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 47 رنز بنائے۔ اس کے بعد ایڈن مارکرم نے ریان رکلٹن کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لیے ناقابل شکست 82 رنز کی شراکت قائم کی اور ٹیم کو آسان فتح دلائی۔ 

ابھیشیک 30 گیندوں میں 4 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جب کہ کپتان سوریا نے 13 گیندوں میں 5 چوکوں کی مدد سے 33 رنز بنائے۔

یہ سپر-8 مرحلے میں جنوبی افریقہ کی مسلسل دوسری کامیابی ہے، جس کے بعد ٹیم گروپ اے میں پہلی پوزیشن پر پہنچ گئی ہے اور اس کا نیٹ رن ریٹ +2.890 ہو گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کی اس بڑی جیت سے بھارتی ٹیم کو بھی فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ اب سیمی فائنل میں رسائی کے لیے بھارت کو اپنے باقی دونوں میچ جیتنا ہوں گے جبکہ نیٹ رن ریٹ کا دباؤ کم ہو گیا ہے۔