پاکستان کے سابق کھلاڑی دانش کنیریا۔
نئی دہلی: ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت کے خلاف 15 فروری کو ہونے والے میچ کا پاکستان نے پہلے بائیکاٹ کیا تھا، لیکن آئی سی سی کی ثالثی کے بعد پاکستان اب بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لینے پر پاکستان کے سابق کھلاڑی دانش کنیریا نے اپنی ہی ٹیم کا مذاق اُڑایا ہے۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے دانش کنیریا نے کہا کہ کرکٹ میں اسپن اسپیشلسٹ اور بیٹنگ اسپیشلسٹ ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان ’’یو ٹرن اسپیشلسٹ‘‘ ہے۔
پاکستان سے بہتر یو ٹرن لیتے کسی کو نہیں دیکھا
کنیریا نے کہا، “ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ ڈراما نہیں رکے گا اور وہ یو ٹرن لیں گے، کیونکہ وہ اس میں ماہر ہیں۔ میں نے ان سے بہتر یو ٹرن لیتے کسی کو نہیں دیکھا۔ دنیا پاکستان پر ہنستے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ایک لمحے وہ کچھ کہتے ہیں اور اگلے ہی لمحے بالکل الٹ بات کرتے ہیں۔ اچانک میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کرنے کا کوئی مطلب نہیں تھا۔”
پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے پر اٹھائے سوال
انہوں نے پاکستان کے بائیکاٹ کے فیصلے اور اسے بنگلہ دیش سے جوڑنے کی منطق پر بھی سوال اٹھائے۔ کنیریا نے کہا کہ بنگلہ دیش نے پاکستان کرکٹ کے لیے کیا کیا ہے؟ بنگلہ دیش نے جو کچھ کیا، وہ اس کا اور آئی سی سی کا معاملہ تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ بنگلہ دیش نے کبھی پی سی بی کی کسی بھی طرح مدد کی ہو۔ آپ بائیکاٹ پر اتنے بڑے بیانات دے رہے تھے—تو اب کیا ہوا؟ اچانک ایسا کیا بدل گیا کہ آپ کو کھیلنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے؟
اگر آپ کوئی فیصلہ لے رہے ہیں تو اس پر قائم رہیں
کنیریا نے کہا، “اگر آپ کوئی فیصلہ لے رہے ہیں تو کم از کم اس پر قائم رہیں۔ اچانک یو ٹرن لینا اور میڈیا میں شور مچانا—یہ کہنا کہ ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا—اس سے معاملات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مستقبل میں یہ ایک بڑا دردِ سر بن سکتا ہے۔ فی الحال، مجھے پوری صورتحال واقعی مضحکہ خیز لگ رہی ہے۔ اگر آپ نے کوئی مؤقف اپنایا ہے تو اس پر ڈٹے رہیں—’نہیں‘ کا مطلب ’نہیں‘ ہونا چاہیے۔ ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کو الگ تھلگ پڑ جانے یا ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کا خوف تھا، اسی لیے آخرکار انہوں نے کہا، ‘ٹھیک ہے، ہم کھیلیں گے‘۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے آئی سی سی کے ساتھ میٹنگ میں بھارت کے ساتھ سیریز وغیرہ کے مطالبات بھی رکھے تھے۔ جیسے جیسے دباؤ بڑھا، آئی سی سی نے ممکنہ پابندیوں، بڑے مالی نقصان اور پی ایس ایل کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو این او سی نہ ملنے جیسے نکات اٹھائے، تو پی سی بی کے لیے صورتحال سنجیدہ ہو گئی۔ اسی وجہ سے پاکستان کو کہیں نہ کہیں بیک فٹ پر آنا پڑا۔
کنیریا نے بھارت-پاکستان میچوں کے نفسیاتی چیلنج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی ٹیم ذہنی طور پر نو-کانٹسٹ کی صورتحال کے لیے تیار ہوتی ہے اور اچانک ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے میچ کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، تو یہ اچانک تبدیلی دونوں ٹیموں پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
پوری طرح آپس میں مل گئے ہیں سیاست اور کرکٹ
انہوں نے کہا، “جو کچھ بھی ہوا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ صاف ہے کہ سیاست اور کرکٹ پوری طرح آپس میں مل گئے ہیں۔ کھلاڑیوں پر دباؤ ہے۔ پاکستان اب کھیلنے پر راضی ہو گیا ہے۔ ‘شاہین بمقابلہ ابھیشیک’ کی ہائپ شروع ہو گئی ہے۔ اسے ایک بڑی لڑائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی حالیہ کارکردگی اور بھارت کے ہاتھوں مسلسل شکست کی وجہ سے پرانی دشمنی دراصل مدھم پڑ گئی تھی، لیکن پہلے انکار اور پھر یو ٹرن لے کر پاکستان نے اس دشمنی کو دوبارہ ہوا دی ہے اور اپنی ہی ٹیم پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔”
سابق اسپنر نے کہا، “دونوں ٹیموں پر دباؤ ہے۔ پہلے کھلاڑی ذہنی طور پر ایسے زون میں تھے کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں کھیلیں گے، لیکن اچانک سب کچھ بدل گیا اور اب انہیں میچ کھیلنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تیاری دگنی ہو جاتی ہے اور دباؤ بھی۔ ممکن ہے آپ کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم بحث اور کچھ تلخ کلامی دیکھیں۔ آخر میں، وہی ٹیم جیتے گی جو اس دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالے گی۔”
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


