نئی دہلی: بھارتی تیز گیندباز محمد شامی گزشتہ ایک سال سے اپنی شاندار کارکردگی کے باوجود قومی ٹیم میں واپسی کے منتظر ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے سید مشتاق علی ٹرافی 2025 میں 7 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رنجی ٹرافی 2025-26 میں 7 میچوں میں 37 وکٹیں لے کر اپنی فارم اور فٹنس دونوں ثابت کیں۔ چاہے ریڈ بال کرکٹ ہو یا ٹی20، محمد شامی نے ہر فارمیٹ میں اپنی قابلیت دکھائی ہے۔ اس کے باوجود سلیکٹرز نے انہیں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے منتخب نہیں کیا۔ چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کا کہنا تھا کہ شامی مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں، حالانکہ گھریلو کرکٹ میں ان کی کارکردگی اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
ایشیا کپ اور دیگر سیریز میں بھی نظرانداز
امید کی جا رہی تھی کہ ایشیا کپ 2025 میں شامی کو موقع ملے گا، مگر انہیں پھر نظرانداز کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے اور ٹی20 سیریز اور ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھی انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ بات اس لیے بھی حیران کن ہے کہ وہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2023 میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے۔
آئی پی ایل 2026 میں بھی زبردست فارم
انڈین پریمیئر لیگ 2026 میں بھی محمد شامی نے اپنی شاندار فارم جاری رکھی ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کی جانب سے کھیلتے ہوئے انہوں نے دہلی کی ٹیم کے خلاف اہم وکٹ حاصل کی، جبکہ دوسرے میچ میں صرف 9 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں اور اکانومی ریٹ 2.20 رکھا، جو غیر معمولی کارکردگی ہے۔
سلیکشن نہ ہونا سوالوں کے گھیرے میں
شامی کی مسلسل عمدہ کارکردگی کے باوجود ان کا بھارتی ٹیم سے باہر رہنا کرکٹ حلقوں میں سوالات پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وہ اسی فارم کو برقرار رکھتے ہیں تو سلیکٹرز کے لیے انہیں مزید نظرانداز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ محمد شامی اب بھی اپنی محنت اور کارکردگی کے ذریعے ٹیم میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر ان کی یہی فارم جاری رہی تو جلد ہی وہ دوبارہ بھارتی ٹیم کی جرسی میں نظر آ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


