Urdu Conclave 2026

Uttarakhand’s King Roat apple makes its way to UAE: اتراکھنڈ کے ’’کنگ روٹ‘‘ سیب کی پہلی بار یو اے ای کو برآمد – زرعی برآمدات کے نئے دور کا آغاز

اتراکھنڈ کا “کنگ روٹ” سیب اپنی کرسپ ساخت، بھرپور ذائقہ اور قدرتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سیب منفرد خصوصیات کے حامل ہیں، لیکن کسانوں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے،

اتراکھنڈ حکومت نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ضلع پوری گڑھوال کے سیبوں کی پہلی کھیپ 1.2 میٹرک ٹن، متحدہ عرب امارات (UAE) کو برآمد کی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست نے عالمی منڈی میں قدم رکھتے ہوئے اپنے خاص کنگ روٹ قسم کے سیب کو برآمد کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مزید 8 میٹرک ٹن سیب بحری راستے سے برآمد کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے۔

برآمدی عمل میں APEDA کا کردار

یہ آزمائشی برآمد APEDA (ایگریکلچرل اینڈ پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کی مدد سے ممکن ہوئی، جو بھارت کی وزارتِ تجارت و صنعت کے تحت کام کرتی ہے۔ ادارے کے ایک افسر کے مطابق:

“یہ ایک آزمائشی مرحلہ تھا تاکہ دیکھا جا سکے کہ عالمی مارکیٹ میں اتراکھنڈ کے سیب کس حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر نتائج مثبت آئے تو برآمدات میں وسعت دی جائے گی۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ہرسل سے 8,000 کلوگرام سیبوں کی بحری برآمد بھی طے شدہ ہے، کیونکہ وہاں پیدا ہونے والے سیبوں کی شیلف لائف (یعنی ذخیرہ کرنے کی مدت) کافی زیادہ ہوتی ہے، جو برآمدات کے لیے ایک اہم خوبی ہے۔

کنگ روٹ: ذائقہ، ساخت اور میٹھاس کی پہچان

اتراکھنڈ کا “کنگ روٹ” سیب اپنی کرسپ ساخت، بھرپور ذائقہ اور قدرتی مٹھاس کے لیے جانا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ سیب منفرد خصوصیات کے حامل ہیں، لیکن کسانوں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی میں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے، جن میں بنیادی ڈھانچے کی کمی، محدود ترسیل کے ذرائع اور فصل کی کٹائی کے بعد کا ناقص انتظام شامل ہے۔

مقابلہ سخت، مگر امید باقی

ڈاکٹر وشال رانا، جو ہماچل پردیش کے Y.S. پرمار یونیورسٹی آف ہارٹیکلچر اینڈ فاریسٹری سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ:”اتراکھنڈ میں سیبوں کی کاشت چھوٹے اور بکھرے ہوئے باغات میں ہوتی ہے، جن کا معیار عالمی سطح کے مطابق نہیں ہوتا۔ UAE کی منڈی میں ان سیبوں کو امریکہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور یورپ کے اعلیٰ معیار کے سیبوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اتراکھنڈ میں قدرتی زرعی عمل، خاص طور پر پولینیشن (زرپاشی) کا مسئلہ بھی ہے۔ بہترین پیداوار اور معیار کے لیے باغات میں 33.33 فیصد پولینائزر درخت ہونے چاہئیں، لیکن بیشتر باغات میں یہ تناسب کم پایا گیا ہے۔

مستقبل کی راہیں

APEDA کا کہنا ہے کہ اس آزمائشی برآمد سے کولڈ چین مینجمنٹ، فصل کے بعد کا نظم و نسق اور لاجسٹکس جیسے شعبوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اگر تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں اتراکھنڈ کے سیب جنوب مشرقی ایشیا اور یورپ کی منڈیوں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔