تمل ناڈو کے ترچی میں آلودہ پانی پنےئ سے 30 سے زائد افراد اسپتال مں داخل
ترچی: تمل ناڈو کے ترچی شہر کے اوریور علاقے میں آلودہ پانی پینے سے لوگ بیمار پڑ گئے۔ 30 سے زائد افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جبکہ دو کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں 58 سالہ لتا اور 4 سالہ لڑکی پرینکا شامل ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پینے کے پانی میں سیوریج واٹر مل جانے سے یہ واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ پنی کنکرن اسٹریٹ اور منیپن اسٹریٹ علاقوں میں پیش آیا، جہاں مقامی لوگ گزشتہ چھ ماہ سے سیوریج کے مسائل کی شکایت کر رہے تھے لیکن کارپوریشن نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیوریج سسٹم میں رکاوٹ کے باعث پینے کا پانی آلودہ ہو گیا۔ یہ شکایت کئی بار میونسپل عہدیداروں بشمول جونیئر اسسٹنٹ ونود کمار اور دیگر عہدیداروں سے کی گئی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
حالیہ واقعے کے بعد میونسپل کارپوریشن نے علاقے کی صفائی اور پانی کی سپلائی کو جراثیم سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے نمونے جانچ کے لیے بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے علاقے میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کمشنر سراوانن نے دعویٰ کیا کہ لڑکی پرینکا کی موت پانی کی آلودگی کے بجائے کسی دوا سے الرجی یا فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے ہوئی۔ حالانکہ، مقامی لوگ اس دعوے کو مسترد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بچی کی موت میونسپل کارپوریشن کی لاپرواہی سے ہوئی۔
رہائشی متھیا نے کہا، ’’ہم نے بارہا سیوریج اور پانی کے مسائل کی شکایت کی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اب ہم متاثرہ افراد کے لیے فوری طبی امداد اور مرنے والوں کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
اس دوران ستیش کمار نے میونسپل کارپوریشن کی بے عملی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی ہفتوں سے سیوریج بلاک ہونے کی شکایت کر رہے تھے لیکن حکام نے توجہ نہیں دی، ان کی لاپرواہی سے لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔
مقامی لوگ وزیر کے این نہرو، میئر انبازہگن اور وارڈ کونسلر متھو کمار پر بھی تنقید کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اس نازک صورتحال میں علاقے کا دورہ بھی نہیں کیا۔ ہنگامہ بڑھتا دیکھ کر میونسپل کارپوریشن نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی شروع کردی۔ لیکن علاقے کے لوگ اس مسئلے کا مستقل حل چاہتے ہیں اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


