Urdu Conclave 2026

Six children drown near Lotwa Dam: ہزاری باغ میں دردناک حادثہ، ڈیم میں ڈوبنے سے 6 طالب علموں کی موت

 اطلاع ملتے ہی مقامی غوطہ خوروں کو بلایا گیا، کافی کوشش کے بعد ٹیم نے 6 بچوں کی لاشیں نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو مطلع کر دیا گیا اور جیسے ہی گھروالوں کو اپنے بچوں کی موت کی خبر ملی ان کا رو رو کر برا حال ہوگیا ۔چونکہ نوراتری کے اس پرمسرت موقع پر ان کے گھروں میں ماتم پھیل گیا۔

ہزاری باغ کے تھانہ اچاک کے نیشنل پارک کے قریب لٹوا ڈیم میں 6 بچے سکول سے  کلا س چھوڑ کر کے نہانے گئے تھے،نہانے کے دوران یہ سب کے سب  ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔آپ کو بتاتے چلیں کہ کل 7 بچے 12ویں جماعت میں پڑھتے تھے۔  ماؤنٹ سکول، ہزاری باغ کے اسکول کے یہ بچے جب کلاسز چھوڑ کر نہانے کیلئے کیلئے لڈواڈیم پہنچے تواسی دوران یہ حادثہ پیش آیا جس میں ڈوبنے سے 6 طالب علموں کی موت ہو گئی۔حالانکہ اس حادثے میں  ایک بچ نکلنے میں کامیاب ہوا اوراسی نے  آس پاس کے لوگوں کو اطلاع دی۔

 اطلاع ملتے ہی مقامی غوطہ خوروں کو بلایا گیا، کافی کوشش کے بعد ٹیم نے 6 بچوں کی لاشیں نکال لیں۔ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو مطلع کر دیا گیا اور جیسے ہی گھروالوں کو اپنے بچوں کی موت کی خبر ملی ان کا رو رو کر برا حال ہوگیا ۔چونکہ نوراتری کے اس پرمسرت موقع پر ان کے گھروں میں ماتم پھیل گیا چونکہ ان کے  بچوں موت واقع ہوگئی ہے۔ پولیس نے تمام لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ہزاری باغ صدر اسپتال بھیج دیا ہے۔

اس واقعے کے بعد  پولیس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔ وہیں اس واقعہ نے پورے ہزاری باغ کے باشندوں کو خو ف میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی عوامی نمائندوں نے بھی موقع پر پہنچ کر اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ خدا نہ کرے گھر کے کسی فرد کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آئے، یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیو کمار موقع پر ٹیم کے ساتھ موجود نظر آئے۔انہوں نے کہا کہ مزید کارروائی جاری ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read