Bharat Express DD Free Dish

Puran kumar suicide case: پورن کمار کی موت کا ’خونی راز‘!  ڈی جی پی اور ایس پی پر ایف آئی آر درج؛ ہریانہ کے ’ٹاپ کاپ‘ کی کرسی خطرے میں

آئی پی ایس وائی پورن کمار خودکشی معاملہ: وائی پورن کمار کی خودکشی کے معاملے میں کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ ہریانہ کے ڈی جی پی اور روہتک کے ایس پی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ہریانہ کے سینئر آئی پی ایس افسر وائی پورن کمار کی موت کے معاملے میں بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی خودکشی کے بعد ہریانہ کے ڈی جی پی شترُجیت سنگھ کپور اور روہتک کے ایس پی نریندر بجارنیا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ چنڈیگڑھ پولیس نے وائی پورن کمار کی خودکشی کے معاملے میں جمعرات کو ایف آئی آر درج کی۔

معاملہ کیا ہے؟

وائی پورن کمار نے 8 اکتوبر کو چندیگڑھ میں واقع اپنے گھر پر مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔ اپنے سوسائڈ نوٹ میں انہوں نے کئی سینئر افسران پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذہنی اذیت اور بےعزتی کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈی جی پی اور ایس پی کے خلاف مقدمہ

چندیگڑھ پولیس نے وائی پورن کمار کی خودکشی کے معاملے میں ڈی جی پی شترُجیت سنگھ کپور اور روہتک کے ایس پی نریندر بجارنیا کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کیس خودکشی پر اکسانے اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔

آئی اے ایس امنیت کا مطالبہ

وائی پورن کمار کی بیوی، آئی اے ایس افسر امنیت پی کمار نے وزیراعلیٰ نایب سنگھ سینی سے ملاقات کی اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوسائڈ نوٹ میں شامل افسران کو معطل کرنے، گرفتار کرنے اور خاندان کو سکیورٹی فراہم کرنے کی مانگ کی ہے۔

حکومت کی کارروائی

ہریانہ حکومت نے اس معاملے (پورن کمار خودکشی کیس) میں کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ وزیراعلیٰ نایب سنگھ سینی نے وائی پورن کمار کی بیوی سے ملاقات کی اور مناسب کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں آئندہ کیا اقدامات کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read