منی پور کے تھوبل ضلع میں ایک ہجوم نے اتوار کی رات وقف ترمیمی بل کی حمایت میں سوشل میڈیا پوسٹ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رپورٹ کے بعد عوامی اجتماعات پر پابندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ ہفتہ کے روز محمد عسکر علی نے، جو ریاستی بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر ہیں، سوشل میڈیا پر کہا ’’وقف ترمیمی بل پر سیاست نہ کریں۔ بل کا خیرمقدم کریں۔ ہم WAB [وقف ترمیمی بل] کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔
انڈین ایکسپریس نے نامعلوم پولیس افسران کے حوالے سے بتایا کہ اس پوسٹ کے ایک دن بعد تقریباً 7,000 افراد کا ایک ہجوم، لاٹھیوں اور پتھروں سے لیس ضلع کے لیلونگ سمبروکھونگ میں عسکر علی کے گھر میں گھس آیا اور اسے آگ لگا دی۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق تھوبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پیر کو پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے اور آتشیں ہتھیار، تلوار، لاٹھی، پتھر یا دیگر مہلک ہتھیار لے جانے پر پابندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔
وقف ترمیمی قانون کے خلاف وادی امپھال کے کئی علاقوں میں احتجاج
واضح رہے کہ وقف ترمیمی بل جمعہ کو راجیہ سبھا میں اور جمعرات کو لوک سبھا میں منظور ہوا۔ صدر دروپدی مرمو نے ہفتے کے روز اس بل کو قانون میں تبدیل کرتے ہوئے اپنی منظوری دے دی۔ اس بل میں 1995 کے وقف ایکٹ کے 44 سیکشنز میں ترمیم کی تجویز پیش کی گئی تھی، جس میں وقف بورڈ پر غیر مسلموں کو اجازت دینا، جائیداد کے عطیات پر پابندی اور وقف ٹربیونلز کے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کرنا شامل ہے۔
اتوار کو اس قانون کے خلاف وادی امپھال کے کئی حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ لیلونگ سمبروکھونگ میں ایک ریلی میں 5,000 سے زیادہ افراد نے شرکت کی، جب کہ تھوبل میں ارونگ چیسبا سمیت دیگر علاقوں میں مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق امپھال ایسٹ میں کشتری آوانگ لیکائی، کیرانگ مسلم اور کیامگی مسلم علاقوں کے ساتھ ساتھ تھوبل کے سورا میں بھی احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔
محمد عسکر علی نے مانگی معافی
گھر کو مظاہرین کے ذریعے جلائے جانے کے بعد عسکر علی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے مسلم اور میتئی پنگل برادری سے معافی مانگی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق انھوں نے کہا کہ میں مستقبل میں ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا۔ عسکری نے مزید کہا ’’میں پارلیمنٹ میں منظور شدہ وقف بل کی مخالفت کرتا ہوں اور اسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔‘‘ واضح رہے کہ میتئی پنگل مسلمانوں کا ایک گروپ ہے جو منی پور کی میتئی کمیونٹی کا حصہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

