Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق نے کہا کہ سنبھل میں جو بھی کچھ ہوا، اس کے لئے پوری طرح سے پولیس انتظامیہ ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ وہاں جو حرکت کی گئی، اس کے ذمہ دارکے کے بشنوئی اورانوج چودھری ہیں۔

مہیش جیٹھ ملانی نے کہا کہ صرف اپنی سیاست کے لئے کانگریس اسے ایک مدعا بنا رہی ہے۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ اڈانی گروپ کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں ہے۔

ایوان کی کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی کانگریس کے اراکین اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اوراڈانی گروپ سے متعلق معاملے کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگے۔ کچھ اراکین کے ذریعہ التوا کے نوٹس کا ذکرکرتے بھی سنا گیا۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین نے سنبھل کے حادثہ کو اٹھانے کی کوشش کی۔

اتر پردیش کے قنوج میں آگرہ لکھنؤ ایکسپریس وے پر ایک بڑا حادثہ پیش آیا جہاں ایک تیز رفتار کار بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر کو توڑ کر ٹرک سے ٹکرا کر الٹ گئی۔ اس حادثے میں 5 ڈاکٹروں کی موت ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق سمپت نہرا نے ہانسی کے سسئی گاؤں کے رہنے والے سونو کو 31 جولائی اور پھر یکم اگست 2023 کو فون کرکے بھتہ کی رقم کا مطالبہ کیا تھا۔ رقم نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ اس معاملے میں سمپت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں آلودگی سے کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔ آلودگی کا اثر سب سے زیادہ چھوٹے بچوں اور بزرگوں پر پڑ رہا ہے، جنہیں سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

جمعیت علماء ہند کا کہنا ہے کہ مولانا محمود مدنی سنبھل کے حالات سے بہت غمزدہ ہیں، اس لئے چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف انڈیا از خود ان حالات کا نوٹس لیں۔ جمعیت آئین کے محافظ چیف جسٹس آف انڈیا کے پاس آئی ہے اورامید کرتی ہے کہ وہ انصاف کے علمبردار کے طورپراس درخواست پرفوری غورکریں گے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ سنبھل سانحہ لاقانونیت، نا انصافی اورظلم وبربریت کی ایک زندہ تصویرہے، جسے ملک ہی نہیں پوری دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہ سانحہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ یک رخی اور نظریاتی سیاست ملک کوکہاں لے کر آگئی ہے، قانون کے محافظ قاتل بن گئے ہیں، برسوں سے پھیلائی گئی نفرت اب بندوق کی گولیوں تک آگئی ہے۔

جموں وکشمیر 1950 کے بعد پہلی بارمنگل کو’یوم آئین‘ منا رہا ہے، جب ملک کا آئین پارلیمنٹ کے ذریعہ اپنایا گیا تھا۔ حکومت نے آئین کے شاندار انعقاد کے لئے گائیڈ لائن جاری کی ہیں۔