Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

ایس ڈی ایم دنیش نکنج کے مطابق ’’فی الحال بچوں، اساتذہ اور اہل خانہ کے بیانات درج کیے جا چکے ہیں۔ اپنی مدد آپ گروپ (سیلف ہیلپ گروپ) کی خواتین سے بھی جلد پوچھ تاچھ ہوگی۔ جانچ کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘

مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے ہفتہ کے روز رائے گڑھ میں ڈانس بار کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت تنقید کی۔ راج ٹھاکرے شیتکاری کامگار پارٹی کے سالانہ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

بارش نے اگرچہ گرمی سے راحت دی، لیکن سڑکوں پر جگہ جگہ پانی جمع ہونے اور ٹریفک جام نے روزمرہ زندگی کو تھوڑا مشکل ضرور بنا دیا ہے۔

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس عمل نے غریب، اقلیتی اورپناہ گزیں آبادیوں خاص طورپرسیمانچل جیسے پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے افراد کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف انتخابی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی ان ہدایات کو بھی نظر انداز کرتا ہے جس میں شناختی دستاویزات کی فہرست کا دائرہ بڑھانے اور اس میں آدھار، راشن کارڈ وغیرہ کو تسلیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔

ممبئی میں درج ہونے والی یہ ایف آئی آر ایک نئی قانونی اور سماجی بحث کا آغاز کر چکی ہے کہ کیا عوامی مقامات پر پرندوں کو دانہ ڈالنا جرم ہونا چاہیے؟ یا یہ کہ شہری نظم و نسق اور صحت عامہ کے لیے ایسے جذباتی عمل پر بھی سختی ضروری ہے؟

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں خواتین کی سلامتی کے مسائل پر بحث جاری ہے اور حکومتیں خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔ تاہم، ایسے پوسٹرز یہ سوال کھڑا کرتے ہیں کہ کیا سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے ذمہ داری عام شہریوں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مختلف جماعتوں پر تعلیمی اداروں میں سیاسی رسائی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم نے حکومت کے اس قدم کو تعلیمی غیرجانبداری کے تحفظ کی سمت ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یکم اگست 2025 کو شائع شدہ ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے کسی بھی ووٹر کا نام بغیر تحقیق، مناسب سماعت، اور ERO یا AERO کے تحریری حکم کے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ یہ اقدام انتخابی فہرست کو شفاف، درست اور قابل اعتماد بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس پر ایک ماہ تک عوام دعوے اور اعتراضات جمع کرا سکتے ہیں۔