Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے اس کابینہ توسیع کے ذریعے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی توازن، علاقائی نمائندگی اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ 

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے، جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیغام محض ادبی اظہار نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کابینہ توسیع کے دوران ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی پرتیک بھوشن سنگھ کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔

واقعے میں کسی بڑے نقصان یا سنگین زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ابھی تک کسی فریق کی جانب سے باضابطہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی۔ راجستھان پولیس، درگاہ کمیٹی اور مقامی انتظامیہ معاملے کی جانچ کر رہی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔

پرکاش راج کا یہ بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ انتخابات کے دوران وہ کھل کر وجے کی حمایت میں سامنے آئے تھے۔ جب وجے کو حکومت بنانے کا موقع نہ دیے جانے پر سوال اٹھ رہے تھے، تب بھی پرکاش راج نے عوامی فیصلے کا احترام کرنے کی بات کہی تھی۔

مغربی بنگال میں 80 نشستوں تک محدود ہونے کے بعد ٹی ایم سی نے نئی قیادت کا اعلان کر دیا ہے۔ شوبھندیب چٹوپادھیائے کو حزبِ اختلاف کا لیڈر، فرہاد حکیم کو چیف وہپ جبکہ نینا اور اسیمہ کو ڈپٹی لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ پڑھیے ممتا بنرجی کے ان 4 بھروسہ مند لیڈروں کی مکمل پروفائل۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پارٹی اپنی انتخابی شکست کے لیے ’پوری دنیا‘ کو قصوروار ٹھہراتی ہے اور اس کی وجہ اس کی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس نے تمل ناڈو میں اپنے دیرینہ اتحادی ڈی ایم کے کو بھی دھوکہ دیا ہے۔

وجے کا وزیر اعلیٰ بننا تمل ناڈو کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی مانا جا رہا ہے۔ تقریباً چھ دہائیوں سے ریاست میں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے درمیان اقتدار کی جو روایت چلی آ رہی تھی، اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے نے پہلی ہی بار شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں مختلف جماعتوں کی حمایت کے بعد وجے کو 121 ارکان کی تائید حاصل ہوئی،