آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے واضح کیا ہے کہ تروملا مندر کی گورننگ باڈی تروملا تروپتی دیوستھانم (TTD) میں صرف ہندوؤں کو ہی ملازمت دی جانی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو کہیں اور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انھوں نے زور دیا کہ مذہبی اداروں کو ان کے متعلقہ عقائد کے پیروکاروں کو ہی تعینات کرنا چاہیے۔
نائیڈو نے کہا کہ ’’دیگر مذاہب کے لوگ عیسائی اور مسلم عبادت گاہوں میں کام نہیں کرتے ہیں۔ کسی خاص عقیدے کے مذہبی مقامات پر صرف اس عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کو ہی ہونا چاہیے۔‘‘ اس سے قبل فروری میں تروملا تروپتی دیوستھانم (TTD) نے مندر کے اداروں کے تحت کام کرتے ہوئے مبینہ طور پر غیر ہندو عقائد پر عمل کرنے کے الزام میں 18 ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی کی تھی۔ انھیں TTD کی طرف سے منعقد ہونے والی تمام مذہبی اور روحانی تقریبات میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ کارروائی کا سامنا کرنے والوں میں دو پرنسپل، ایک پروفیسر، لیکچرر، نرسیں اور ٹی ٹی ڈی کے زیر انتظام کالجوں، ہسپتالوں اور ہاسٹلز کے دیگر عملہ کے اراکین شامل ہیں۔ ٹی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ ان ملازمین نے ہندو طریقوں پر عمل کرنے کا حلف اٹھایا تھا لیکن وہ ادارے کے تقدس اور عقیدت مندوں کے جذبات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے غیر ہندو رسومات میں مشغول پائے گئے۔
جمعہ کو وزیر اعلیٰ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے پوتے دیونش کی سالگرہ کے موقع پر درشن کے لیے مندر گئے۔ دورے کے بعد خاندان نے ذاتی طور پر انا وتھرانا کیندرم میں عقیدت مندوں میں کھانا تقسیم کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ہم نے ہر سال دیونش کے یوم پیدائش کے موقع پر تروملا میں عقیدت مندوں کو کھانا کھلانے کی روایت بنا دی ہے۔ آنجہانی این ٹی راما راؤ نے تروملا میں انا دنم (کھانا کھلانا) کا آغاز کیا تھا، جو ایک شاندار پروگرام ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ میں نے پران دنم (زندگی کا عطیہ) پروگرام کا آغاز کیا ہے اور یہ دونوں اقدامات رب اور انسانیت دونوں کی خدمت کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔ تیسرے پروگرام کے طور پر ہم مندروں کی تعمیر کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور یہ ٹرسٹ صرف اور صرف خدا کی خدمت کے لیے بنایا جائے گا۔‘‘
نائیڈو نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے بہت سے دیہات میں اب بھی بھگوان وینکٹیشور کے لیے وقف مندروں کی کمی ہے اور ان کی حکومت اس خلا کو پر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے متعلقہ گاؤں میں ان مندروں کی تعمیر کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایک وقف ٹرسٹ قائم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ آندھرا پردیش کی حکومت ہندوستان بھر کے تمام ریاستی دارالحکومتوں اور دنیا بھر کے ان خطوں میں وینکٹیشورا سوامی کے مندروں کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے جہاں دنیا بھر میں ہندوؤں کی نمایاں آبادی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط بھیجے جائیں گے جس میں اس پہل کے لیے ان کا تعاون طلب کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام سیون ہلز (سات پہاڑیاں) مکمل طور پر لارڈ وینکٹیشور کی ملکیت ہیں اور مقدس مقامات کی نہ تو بےحرمتی ہونی چاہیے نہ ان کا تجارتی استعمال ہونا چاہیے۔ پچھلی وائی ایس آر سی پی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یہ بات کہی کہ ممتاز، ایمار اور دیولوک ہوٹلوں کو تروملا پہاڑیوں کے قریب 35.32 ایکڑ اراضی پر تجارتی ادارے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان منظوریوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نائیڈو نے زور دے کر کہا کہ مقدس پہاڑیوں کے آس پاس کسی بھی تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تروملا کے تقدس کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور علاقے کی بے حرمتی کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔ انھوں نے مزید کہا ’’میں تروملا تروپتی دیوستھانم (TTD) کے تمام ملازمین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھگوان وینکٹیشور کے گھر کے تقدس کے تحفظ میں پیش پیش رہیں اور ذاتی مفاد پر مبنی اقدامات سے پرہیز کریں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
