مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے جمعرات کو گجرات میں آبی تحفظ اور آبپاشی سے متعلق کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے نرمدا پروجیکٹ کے طویل سفر کو یاد کیا۔ امریلی ضلع کے دھودھلا میں ’گجرات گورو سروور‘ کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ نرمدا پروجیکٹ کی بنیاد 1964 میں اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے رکھی تھی اور کئی دہائیوں بعد اس کے گیٹ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں کھولے گئے۔
گجرات کے پانی کے بحران کو دور کرنے میں بڑا قدم
شاہ نے کہا کہ نرمدا منصوبہ صرف ایک ڈیم یا آبپاشی اسکیم تک محدود نہیں رہا بلکہ گجرات میں طویل عرصے سے جاری پانی کے بحران کو دور کرنے کی سمت میں ایک بڑی کوشش ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ نرمدا کا پانی سوراشٹرا اور کچھ کے دور دراز علاقوں، حتیٰ کہ کھاوڑہ تک پہنچایا گیا۔امت شاہ نے گجرات میں پڑنے والی پرانی خشک سالی کے دنوں کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے 1985، 1986 اور 1987 کے دوران ریاست میں پانی کی شدید قلت اور امدادی کاموں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، 2001 میں نریندر مودی کے گجرات کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد آبی تحفظ اور آبپاشی پر خصوصی توجہ دی گئی۔شاہ نے کہا کہ 2003 میں صرف ایک سال کے اندر تقریباً ڈیڑھ لاکھ چیک ڈیم بنانے کا کام کیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاست میں ہزاروں جھیلیں تعمیر کی گئیں اور انہیں پانی سے بھرنے کا انتظام کیا گیا۔ شمالی گجرات میں ’سوجلَم سُفلم یوجنا‘ کے ساتھ ساتھ کھیتی میں ڈرِپ اور اسپرنکلر جیسی جدید آبپاشی تکنیکوں کو بھی فروغ دیا گیا۔
’ساؤنی یوجنا‘ سے سوراشٹرا تک پہنچا نرمدا کا پانی
انہوں نے ’ساؤنی یوجنا‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے نرمدا کے اضافی پانی کو سوراشٹرا کے ڈیموں اور دریاؤں تک پہنچانے کا کام کیا گیا۔ شاہ کے مطابق، ان کوششوں سے گجرات کے کئی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر ہوئی اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملی۔
آبی تحفظ کو ملا ادارہ جاتی ڈھانچہ
امت شاہ نے مرکزی حکومت کی ’کیچ دی رین‘ مہم کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت میں جل شکتی وزارت کے قیام کے بعد پانی کے تحفظ سے متعلق کاموں کو ادارہ جاتی سطح پر زیادہ اہمیت ملی۔ اس کے ساتھ ہی موجودہ ڈیموں اور آبپاشی منصوبوں میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرکے ان کی صلاحیت کا بہتر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
21 ایکڑ میں بنا ’گجرات گورو سروور‘
پروگرام میں شاہ نے ’گجرات گورو سروور‘ کی تعمیر کے بارے میں بھی معلومات دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہری کرشن فاؤنڈیشن کے بانی ساوجی بھائی ڈھولکیا نے تقریباً دو سال قبل انہیں اس جھیل کی تعمیر کے پروجیکٹ کے بارے میں بتایا تھا۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد شاہ نے موقع پر جاکر اس کا کام دیکھا اور آبی تحفظ کی اس پہل کی ستائش کی۔ان کے مطابق، ’گجرات گورو سروور‘ تقریباً 21 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 360 میٹر، چوڑائی 260 میٹر اور گہرائی چار میٹر ہے۔ شاہ نے کہا کہ ڈھولکیا کے مطابق علاقے میں آبی تحفظ کے کام ہونے کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آئی ہے اور کچھ پرانے کنویں دوبارہ استعمال میں آنے لگے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہری کرشن فاؤنڈیشن نے گگڑیا ندی کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ 208 جھیلوں کی تعمیر میں بھی تعاون کیا ہے۔
اجتماعی شراکت داری پر زور
امت شاہ نے کہا کہ پانی کے مسئلے کا مستقل حل صرف سرکاری منصوبوں کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے معاشرے اور عام لوگوں کی شراکت داری بھی ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’گجرات گورو سروور‘ جیسی پہل نہ صرف سوراشٹرا بلکہ پورے گجرات میں آبی تحفظ کے لیے لوگوں کو آگے آنے کی ترغیب دے گی۔شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس وسائل اور استطاعت ہے، انہیں پانی بچانے کے کام میں آگے آنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

