صاحب گنج: جھارکھنڈ کے صاحب گنج ضلع کے رتن پور گاؤں میں ایک خاتون نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی بیٹے کا قتل کر دیا۔ پولیس نے بدھ کے روز پورے معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے ملزمہ خاتون اور اس کے مبینہ عاشق روہت ساہ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔
رسی سے گلا گھونٹ کر بیٹے کی لے لی جان
پولیس کے مطابق، 15 سالہ نوعمر لڑکے نے اپنی ماں کو اس کے عاشق کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا۔ پولیس تحقیقات میں سامنے آیا کہ مینو دیوی کے اپنے بھانجے روہت ساہ کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ 7 فروری کو خاتون کا شوہر ہیمنت ساہ کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا، اسی دوران روہت ساہ گھر آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں قابلِ اعتراض حالت میں تھے کہ اسی وقت آیوش نے انہیں دیکھ لیا اور شور مچانے لگا۔ اس دوران دونوں نے مل کر اسے قابو میں کیا اور رسی سے گلا گھونٹ کر اس کی جان لے لی۔
گھر کے پیچھے تالاب کے قریب پھینکی لاش
اس کے بعد دونوں نے لاش کو گھر کے پیچھے تالاب کے قریب پھینک دیا۔ شوہر کے واپس آنے پر خاتون نے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی جھوٹی کہانی گھڑ لی۔ اس نے بتایا کہ آیوش باتھ روم جانے کی بات کہہ کر نکلا تھا اور پھر واپس نہیں آیا۔
اہلِ خانہ اور گاؤں والوں نے شروع کی تلاش
اہلِ خانہ اور گاؤں والوں نے تلاش شروع کی، جس کے بعد نوعمر لڑکا تالاب کے کنارے بے ہوشی کی حالت میں ملا۔ اسے برہروا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا، جہاں سے بہتر علاج کے لیے پاکوڑ کے سوناجوڑی اسپتال ریفر کیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
مقتول کے باپ کے بیان پر قتل کا مقدمہ درج
اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔ مقتول کے باپ کے بیان پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے حالات و شواہد اور پوچھ گچھ کی بنیاد پر پورے واقعے کا پردہ فاش کیا۔ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



