جموں: جموں و کشمیر کے اُدھم پور ضلع میں اتوار کو ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں بیٹے کی موت کی خبر سن کر ایک خاتون شدید صدمے کا شکار ہو گئیں اور ان کی جان چلی گئی۔ حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک خاتون کو اپنے بیٹے کی موت کی اطلاع دی گئی۔ ان کا بیٹا جنگل میں ایک درخت سے گر گیا تھا۔
مہلوک نوجوان کی شناخت ارشاد احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو اُدھم پور ضلع کی رام نگر پنچایت کے لرانہ گاؤں کا رہائشی تھا۔ حکام نے بتایا کہ ارشاد قریبی جنگل میں لکڑیاں جمع کرنے گیا تھا، اسی دوران وہ غلطی سے ایک درخت سے گر پڑا اور موقع پر ہی اس کی موت ہو گئی۔
علاج کے دوران خاتون کی ہو گئی موت
واقعے کے فوراً بعد ارشاد احمد کی موت کی خبر اس کے اہلِ خانہ کو دی گئی۔ یہ المناک خبر سن کر اس کی ماں زیتون بیگم شدید صدمے میں چلی گئیں۔ وہ اپنے گھر پر بے ہوش ہو گئیں اور انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ حالانکہ علاج کے دوران ان کا انتقال ہو گیا۔
واقعے سے سوگ میں ڈوبا پورا گاؤں
اس واقعے سے پورا گاؤں سوگ میں ڈوب گیا۔ مقامی لوگوں نے ان اموات کو انتہائی افسوسناک اور دردناک قرار دیا۔ لرانہ گاؤں کے رہائشیوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قلیل وقت میں ماں اور بیٹے دونوں کو کھونا خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔
پہاڑی میں رہنے والے لکڑیوں پر منحصر
اُدھم پور ضلع کے لرانہ جیسے پہاڑی دیہات اور جموں و کشمیر کے دیگر پہاڑی اضلاع میں رہنے والے لوگ اپنے چولہے جلانے کے لیے چیڑ اور دیگر مخروطی جنگلات سے جمع کی گئی لکڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ لکڑی جلانے والے چولہے سخت سردیوں کے مہینوں میں خاندانوں کو گرم رکھنے کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔
نیم خانہ بدوش طرزِ زندگی گزارتا ہیں قبائلی
ان پہاڑی علاقوں میں رہنے والے بیشتر خاندان گوجر اور بکروال برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ خاندان نیم خانہ بدوش طرزِ زندگی گزارتے ہیں اور گرمیوں کے مہینوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ کشمیر وادی کے چراگاہی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔ خزاں کا موسم ختم ہونے کے بعد یہ خاندان پونچھ، راجوری، ریاسی، اُدھم پور اور جموں ڈویژن کے دیگر علاقوں میں واقع اپنے آبائی گھروں کو واپس لوٹ آتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
