کچھ میں خوفناک سڑک حادثہ
کچھ: گجرات کے کچھ میں جمعرات کی دیر رات ایک خوفناک سڑک حادثہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک حادثے میں چار افراد زندہ جل گئے۔ یہ واقعہ مالیوا کے قریب واقع سورج باڑی پل کا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جمعرات کی دیر رات ایک کار اور ٹریلر کے درمیان زبردست تصادم ہو گیا۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ کار میں سوار 4 افراد زندہ جل گئے اور 5 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔
فوراً موقع پر پہنچی فائر بریگیڈ کی ٹیم
مقامی لوگوں نے اس حادثے کی اطلاع پولیس اور فائر ڈیپارٹمنٹ کو دی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور کافی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔ حالانکہ، تب تک چار افراد جان کی جان جا چکی تھی۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں آگ بجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے کیا بتایا؟
ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے تیز رفتاری اور ممکنہ لاپرواہی کو حادثے کی وجہ قرار دیا ہے۔ معاملے کی تفصیلی تفتیش جاری ہے اور مہلوکین کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے زخمیوں کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا ہے اور فورنسک تحقیقات کی بنیاد پر حادثے کی اصل وجہ کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔
ہوا تھا حادثہ 25 جولائی کو گاندھی نگر میں
اس سے قبل 25 جولائی کو گجرات کے گاندھی نگر میں ایک کار ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا تھا۔ اس حادثے میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حادثے کے وقت ٹاٹا سفاری کار کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی۔ اس حادثے میں ایک خاتون سمیت چار افراد کی موت ہو گئی، جب کہ کئی لوگ شدید زخمی ہو گئے۔
پہلے بھی ہو چکے ہیں کئی سڑک حادثات
آپ کو بتاتے چلیں کہ گجرات میں اس سے پہلے بھی کئی سڑک حادثات سامنے آ چکے ہیں۔ اس سال 6 مارچ کو سبرکنٹھا ضلع میں آلو سے لدا ایک ٹرک ایک جیپ سے ٹکرا گیا تھا، جس میں تین کی موت ہو گئی تھی اور 19 لوگ زخمی ہوئے تھے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
