Urdu Conclave 2026

Gujarat Samachar: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے معروف گجراتی اخبار ’’گجرات سماچار‘‘ کے مالک کو کیا گرفتار، کانگریس نے حکومت پر لگایا بدلہ لینے کا الزام

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو معروف گجراتی اخبار ’’گجرات سماچار‘‘ کے مالکان میں سے ایک باہوبلی شاہ کو اخبار کے دفتر پر چھاپے کے بعد حراست میں لے لیا ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو معروف گجراتی اخبار ’’گجرات سماچار‘‘ کے مالکان میں سے ایک باہوبلی شاہ کو اخبار کے دفتر پر چھاپے کے بعد حراست میں لے لیا ہے۔ باہوبلی شاہ ’لوک پرکاشن لمیٹڈ‘ کے ڈائریکٹرز میں سے ایک ہیں، جو ’گجرات سماچار‘ کا مالک ہے۔ وہیں ان کے بڑے بھائی شریانش شاہ روزنامہ ’گجرات سماچار‘ کے منیجنگ ایڈیٹر ہیں۔

شریانش شاہ کے ذریعہ چلائے جانے والے گجراتی نیوز چینل جی ایس ٹی وی میں ڈیجیٹل سروسز کے سربراہ تشار ڈیو نے کہا کہ ای ڈی نے جمعہ کے دن صبح کے وقت باہوبلی شاہ کو حراست میں لیا۔ ایک فیس بک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ باہوبلی شاہ کو پہلے ای ڈی کے ذریعہ وی ایس اسپتال لے جایا گیا اور پھر ان کی صحت خراب ہونے کے بعد شہر کے زیڈس اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

ای ڈی نے اب تک نہیں بتائی ہے حراست میں لینے کی وجہ

اب تک ای ڈی نے اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے اور اپنی اس کارروائی کے وجوہ پر روشنی نہیں ڈالی ہے۔ ’گجرات سماچار‘ کے ایک ملازم نے بتایا کہ ای ڈی نے باہوبلی شاہ کو جمعہ کی صبح حراست میں لیا اور وہ فی الحال اسپتال میں ہیں۔ واضح رہے کہ شاہ کو حراست میں لینے سے قبل محکمہ انکم ٹیکس نے احمد آباد میں جی ایس ٹی وی کے احاطے میں تقریباً 36 گھنٹے تک تلاشی لی تھی۔

تشار ڈیو نے ایک اور فیس بک پوسٹ میں کہا کہ آئی ٹی حکام کے جانے کے فوراً بعد ای ڈی نے جمعرات کی شام کو احاطے پر چھاپہ مارا۔ دریں اثنا گجرات کے ایم ایل اے اور کانگریس کے ریاستی ورکنگ صدر جگنیش میوانی نے ای ڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’گجرات سماچار‘ اور اس کے مالکان کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ پچھلے 25 سالوں سے یہ اخبار لگاتار مرکزی حکومت پر تنقیدی رپورٹس شائع کرتا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔