آچاریہ مہامنڈلیشور نرنجن اکھاڑہ سوامی کیلاش آنند گری نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کی طرف سے کمبھ میلے میں ہونے والے اخراجات کو لے کر اٹھائے گئے سوالات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمبھ پر سوال اٹھانا ہندوازم اور سناتن دھرم پر سیدھا حملہ ہے۔
سوامی کیلاش آنند گری نے کہا، “جو لوگ کمبھ پر سوال اٹھا رہے ہیں وہ دراصل سناتن دھرم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ کمبھ میں اسننان کے لیے کروڑوں عقیدت مند آتے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندو اور سناتنی اب بیدار ہو چکے ہیں۔ ان کے خلاف بیان دینا نہ صرف سناتوں کے خلاف ہے، بلکہ قومی مفاد کے بھی خلاف ہے۔
Ghaziabad, Uttar Pradesh: Acharya Mahamandaleshwar Niranjani Akhada Swami Kailashanand Giri Maharaj “Today, I am in Ghaziabad, with Acharya Parmod Krishnam Ji, who is my brother, my friend, my disciple, and my soul companion. We have been discussing Kalaki Dham for hours. Kalaki… pic.twitter.com/fH7QRVUBZF
— IANS (@ians_india) March 7, 2025
’’اکھلیش خود سناتن کے لیے وائرس ہیں‘‘
ہری دوار کمبھ 2021 کے بارے میں اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ وہاں سے کورونا وائرس پھیلا تھا۔ اس پر سوامی کیلاش آنند گری نے کہا کہ کمبھ میں اسننان سے لوگ پاؤتر ہو جاتے ہیں اور ناپاک نہیں ہوتے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کمبھ پر سوال اٹھا رہے ہیں وہ خود سناتن دھرم کے لیے وائرس ہیں۔
انہوں نے مہامنڈلیشور کے خطاب کے لیے رقم لینے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سنتوں اور عام لوگوں کے کھانے اور دیگر انتظامات پر خرچ ہوتا ہے جو کہ عقیدت مند رضاکارانہ طور پر دیتے ہیں۔ کوئی پیسہ زبردستی نہیں لیا جاتا۔
سوامی کیلاش آنند گری نے تمام ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر سنبھل میں بنائے جانے والے کلکی دھام مندر میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سناتنی اور ہندوؤں کو ایک روپیہ اور ایک پتھر کا عطیہ کرکے اس پاویتر کام میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا، “بھگوان کلکی شری کرشن کا اوتار ہے، جو سنبھل میں پیدا ہونے والے ہیں ۔ اس لیے تمام ہندوؤں کو اس مندر کی تعمیر میں مکمل تعاون کرنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


