نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز شرجیل امام، عمر خالد، گلفشہ فاطمہ، میران حیدر اور شفا الرحمٰن کی طرف سے داخل کی گئی ضمانت کی عرضیوں پر سماعت 22 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔ یہ سب عرضیاں دہلی ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کے خلاف داخل کی گئی ہیں ،جس میں عدالت نے 2 ستمبر کو ان افراد سمیت 9 ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
یہ معاملہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات میں مبینہ “بڑی سازش” سے متعلق ہے، جس کے تحت ان افراد پر انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے (UAPA) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پہلے بھی ملتوی ہو چکی ہے سماعت
اس سے قبل بھی 12 ستمبر کو ان عرضیوں پر سماعت ہونی تھی، مگر سپریم کورٹ کی جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے یہ کہہ کر سماعت ملتوی کر دی کہ انہیں متعلقہ فائلیں دیر سے موصول ہوئیں۔
شرجیل امام پر سنگین الزامات
یاد رہے کہ شرجیل امام کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے خلاف ملک گیر احتجاجات کے دوران فسادات بھڑکانے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
ان فسادات میں 53 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق، شارجیل امام، عمر خالد اور دیگر نے مبینہ طور پر پرتشدد ماحول پیدا کرنے کی سازش کی تھی۔
ضمانت کی امید یا مزید تاخیر؟
ملزمان کے وکلاء کا مؤقف ہے کہ ان کے مؤکلوں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے اور انہیں صرف سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وہ امید کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ سے انہیں ضمانت ملے گی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے یو اے پی اے جیسے سخت قانون کا اطلاق کرتے ہوئے ملزمان کو “سازش کار” قرار دیا جا رہا ہے، اور ضمانت کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اب نظریں 22 ستمبر پر مرکوز ہیں، جب سپریم کورٹ یہ طے کرے گی کہ آیا شارجیل امام، عمر خالد اور دیگر کو ضمانت دی جائے یا نہیں۔ اس کیس کے فیصلے کا اثر نہ صرف ان افراد کی زندگیوں پر بلکہ مستقبل میں احتجاجات، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی مقدمات کی نوعیت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی و سماجی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ، ملک میں آزادی اظہار، سیاسی اختلاف اور انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال کے درمیان توازن کو لے کر ایک بڑی مثال قائم کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




