مہاراشٹر کی مہایوتی حکومت میں سماجی انصاف کے وزیر اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے رہنما سنجے شرساٹ نے ہفتہ کے روز اجیت پوار کے زیرقیادت مالیاتی محکمہ پر ان کے علم کے بغیر ان کے محکمہ سے فنڈز کو ’’غیر قانونی طور پر‘‘ منتقل کرنے کا الزام لگایا۔ پی ٹی آئی کے مطابق شرساٹ نے کہا ’’انھوں نے مجھے اندھیرے میں رکھ کر پہلے [بجٹ کے دوران] میرے محکمے سے 7,000 کروڑ روپے ہٹا دیے تھے۔ اگر حکومت نہیں چاہتی کہ سوشل جسٹس ڈپارٹمنٹ کام کرے یا وہ پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہتی تو اسے اس محکمے کو بند کر دینا چاہیے۔‘‘
شرساٹ نے مزید کہا کہ فنڈز کی منتقلی قانونی نہیں ہے اور کہا کہ وہ اس معاملے کو وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے سامنے اٹھائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ان کا یہ عمل غلط ہے۔ میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے دن میں مہاراشٹر قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ سماجی انصاف کے محکمے کو مختص 3,960 کروڑ روپے میں سے 414.30 کروڑ روپے ریاستی حکومت کی طرف سے ہٹا دیے گئے ہیں۔
شیو سینا (اُدھو بالا صاحب ٹھاکرے دھڑے) کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ خواتین کے فلاح و بہبود کے لیے شروع کی گئی ’’لڑکی بہن‘‘ اسکیم کے تحت ماہانہ نقد رقم کی منتقلی کو پورا کرنے کے لیے قبائلی ترقی کے محکمے سے 335.70 کروڑ روپے ٹرانسفر کیے گئے تھے۔ دانوے نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں الزام لگایا کہ ’’حکومت نے اپنی پیاری بہن کی ماہانہ تنخواہ ادا کرنے کے لیے قبائلیوں کے حصے کی رقم چرا لی‘‘۔
واضح رہے کہ حکومت لڑکی بہن اسکیم کے تحت 21 سے 65 سال کی عمر کی خواتین کو، جن کی سالانہ خاندانی آمدنی 2.5 لاکھ روپے سے کم ہے، براہ راست بینک ٹرانسفر کی صورت میں 1500 روپے ماہانہ دیتی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ اس اسکیم نے مہایوتی اتحاد کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، شندے سینا اور اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شامل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



