جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف جاری بڑے آپریشن کے دوران ایک اور مشتبہ دہشت گرد کے گھر پر بم دھماکہ ہوا۔ یہ کارروائی پہلگام میں حملے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں28 لوگ مارے گئے تھے۔
اس بار شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے کالرس علاقے میں فاروق احمد تڑوا کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ فاروق کا تعلق پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے ہے۔ حکام نے اس کے گھر پر بمباری کی۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کے کئی مکانات اس طریقے سے مسمار کیے جا چکے ہیں۔
دیگر دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی
گزشتہ 48 گھنٹوں میں 6 دہشت گردوں یا ان کے ساتھیوں کے مکانات مسمار کیے گئے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بھی اسی طرح کی سخت کارروائی کی جائے گی۔ جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ہفتہ کو سری نگر میں 60 سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر پولیس نے جاری کیا بیان
پولیس نے بتایا کہ چھاپہ ہتھیاروں، دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کی برآمدگی کے لیے کیا گیا۔ اس کا مقصد ملک کے خلاف کسی بھی سازش یا دہشت گردانہ سرگرمی کا پتہ لگانا اور اسے روکنا ہے۔ اس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور انٹیلی جنس معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پولیس ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کا مقصد ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے/ جو ملک دشمن یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح تیار اور پرعزم ہے۔
اگر کوئی شخص تشدد، گڑبڑ یا غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دیتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز وادی میں دہشت گردوں کے مددگاروں اور حامیوں کی تلاش میں ہیں/ تاکہ پہلگام جیسے حملوں کو روکا جا سکے اور پہلے سے مضبوط تیاریاں کی جا سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



