Bharat Express DD Free Dish

Pahalgam

ارُو میں موجود اس قدیم پانی کی چکی سے فرید احمد خان اپنی روزی کماتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں جسے ان کے آباؤ اجداد نسل در نسل نبھاتے آئے ہیں۔ ماضی میں بھی خاندان کے افراد اپنے روزگار اور گزر بسر کے لیے اسی چکی پر انحصار کرتے تھے اور آج فرید خان اس قدیم روایت کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔

فروری اور مارچ میں ہونے والی برفباری نسبتاً جلد پگھل جاتی ہے اور زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی۔ اسی لیے اگر چِلّئی کلاں کے دوران خاطر خواہ برفباری نہ ہو تو گرمیوں کے مہینوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مسلم راشٹریہ منچ کی امن یاترا نے ثابت کیا – 'کشمیر بھارت کی روح، ہم سب ایک ہیں۔ ترنگے کی چھاؤں میں جڑے دل، پہلگام میں بھائی چارے کی گونج۔

جموں میں کمیٹی کے ارکان اعلیٰ انتظامی حکام سے ابتدائی ملاقاتیں کریں گے تاکہ علاقے کی سیکیورٹی تیاریوں اور ترقیاتی چیلنجز کو سمجھ سکیں۔

جموں وکشمیرکے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے جب اس حکومت نے جموں یا سری نگرکے باہرکابینہ کی میٹنگ کی ہے۔ ہم نے اپنی حکومت کے ایجنڈے کے مطابق کام کیا ہے۔ جموں وکشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا ایجنڈا خون خرابے کے سبب نہیں رکے گا۔

ہندوستان  کے آپریشن سندور پر امریکہ، اسرائیل اور یورپی ممالک نے واقعہ کو ایک درست اور تحمل سے بھرپور قدم قرار دیا اور اس کی تعریف کی۔ ہندوستان  نے واضح کیا کہ یہ حملے کسی پاکستانی شہری، فوجی یا اقتصادی اسٹیبلشمنٹ پر نہیں تھے۔ صرف جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کے مضبوط ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے چہروں کے رنگ اور آنکھوں کی زبان سے صاف ظاہر تھا کہ بھارت کی جوابی کارروائی نے انہیں چوکنا اور پریشان کر دیا ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کو لے کر جمعہ کو مظفر نگر میں پاکستان کے خلاف ایک جن آکروش ریلی نکالی گئی تھی۔ اس ریلی میں اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں ضلع کے مکینوں کے ساتھ ہندو تنظیموں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔

درخواست گزار نے کہا کہ جب ہمیں پاکستان کے لیے نوٹس ملا تو ہم چونک گئے۔ یہی نہیں، ہمیں گاڑی میں بٹھا کر اٹاری بارڈر پر لے جایا گیا اور کہا گیا کہ ہم ملک چھوڑ دیں، جبکہ ہم ہندوستانی ہیں۔

سی آئی اے نے 32 سال قبل خبردار کیا تھا کہ ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازع کو ہوا دے سکتا ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، جب دہشت گردوں نے پہلگام جیسے پرامن سیاحتی مقام کو نشانہ بنایا،