جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جس میں 28 سیاح ہلاک ہوئے تھے، بھارتی حکومت نے سندھ طاس کے دریائے سندھ، جہلم، چناب کا 80 فیصد پانی روکنے کا اعلان کیا تھا، جو کہ پاکستان کے لیے مختص تھا۔ اس پر بی جے پی کے ترجمان شاہنواز حسین نے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا خون نہیں بہا سکتا اور ہم اسے پانی نہیں دے سکتے۔
شاہنواز حسین نے کہا- ہم تمہیں پانی کی بوند بوند کے لئے ترسائیں گے
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو پانی کے ایک بوند بوند (قطرے)کے لئے رسائیں گے۔جو پانی پاکستان کے پاس جارہا ہے ، اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمیں ہے۔ جب ملک تقسیم ہوا تو جناح نے ندیوں کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ نہرو جی نے 1960 میں پاکستان کو تین ندیوں کا پانی تحفے میں دیا تھا۔شاہنواز حسین نے کہا کہ جو پانی ہم نے پاکستان کو تحفے میں دیا اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ صرف دہشت گردی، دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے پانی بند کریں گے۔
’’پاکستانی کو نیند نہیں آرہی ہے ‘‘
جس کے بعد پاکستان کے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے ایٹمی حملے کی دھمکی پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوف کی ایسی فضا ہے کہ بلاول بھٹو کے خاندان کے تمام افراد کینیڈا فرار ہو گئے۔ جنرل عاصم منیر کے خاندان کے افراد بھی ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو نیند نہیں آرہی ہے۔ پاکستان میں اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ وہاں نیند کی گولیاں سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں۔ پورا پاکستان خوف سے کانپ رہا ہے۔ وہ اور کرے دہشت گردی، ایسا ہی جواب ملے گا۔
اس کے بعد انہوں نے مہاراشٹر کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار کے اس بیان پر بھی کڑی نکتہ چینی کی جس میں کہا گیا تھا کہ ’’دہشت گردوں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ مذہب کے بارے میں پوچھ کر قتل کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین اپنی سرگرمیاں بند نہیں کریں گے۔ پاکستان نے ڈوزیئر میں کانگریس رہنماؤں کے بیانات شامل کیے ہیں۔
اس وقت صرف کانگریسی لیڈر ہی پاکستانی ٹی وی پر مقبول ہورہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سدارامیا کے بیان کو نمایاں طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے وزیر ایکسائز نے کہا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں نے مذہب کے بارے میں پوچھا۔
رابرٹ واڈرا نے بھی ایسا ہی بیان دیا۔ کانگریس پارٹی کا اپنے ہی لیڈروں پر کنٹرول نہیں ہے۔ ایک طرف وہ آل پارٹی اجلاس میں حکومت کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے رہنما ایسے بیانات دے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



