Bharat Express DD Free Dish

Elon Musk-Donald Trump Controversy: دوستی دشمنی میں بدلی،مسک اور ٹرمپ کے درمیان نئی جنگ شروع ،’ایپسٹین فائل’ کیا ہے، جس پر شروع ہوا  تنازع

ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے دوران کہا کہ میں ایلون مسک سے بہت مایوس ہوں۔ میں نے ان کی بہت مدد کی تھی۔

امریکہ میں ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فاصلہ گہری کھائی میں بدل گیا ہے۔ یہ اس وقت شروع ہوا جب مسک کے قریبی دوست جیرڈ آئزاک مین کا نام ناسا کے نئے سربراہ کے طور پر سامنے آیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اس نام سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا کہ وہ کسی اور نام کا اعلان کریں گے۔ یہ  ایلون مسک کے لیے ایک سیاسی دھچکا تھا، کیونکہ آئزاک مین کا نام ان کی خلائی حکمت عملیوں کے مرکز میں تھا۔

حال ہی میں ایلون مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بگ بیوٹی فل بل پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ اس کی وجہ سے انہوں نے DOGE ڈیپارٹمنٹ سے استعفی دے دیاتھا، قابل ذکر بات یہ ہے ، بگ بیوٹی فل بل کے بارے میں ٹرمپ کی رائے مختلف ہے۔ انہوں نے اسے تاریخی ٹیکس کٹوتی اور MAGA مہم کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایلون مسک نے بیوٹی فل بل کو بہت ہی خراب بل قرار دیا تھا اور کہا  تھا کہ اس سے امریکہ کا خسارہ 2.5 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

صدر ٹرمپ کی  ایلون مسک کو دھمکی

ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کا رویہ دیکھ کر صدر ٹرمپ نے دھمکی دی کہ ایلون مسک کی سبسڈی اور معاہدے منسوخ کر کے اربوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایلون  مسک پر براہ راست اقتصادی حملہ تھا، کیونکہ ان  کی کمپنیوں کو 17 سے زائد ایجنسیوں سے ٹھیکے ملے ہیں۔ اس بیان کے بعد  ایلون مسک نے ٹرمپ پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ وہ ایپسٹین فائل سے متعلق بہت سی باتوں کا انکشاف کریں گے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ایک بڑا بم گرانے کا وقت آگیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ایپسٹین کی فائلوں میں ہے۔ اس لیے ان فائلوں کو پبلک نہیں کیا جا رہا۔ اس پوسٹ کو آئندہ کے لیےمارک کر لو ، سچ ضرور سامنے آئے گا۔ یہ بیان امریکی سیاست میں کھلبلی مچانے کے لیے کافی تھا، کیونکہ جیفری ایپسٹین کا نام جنسی جرائم اور ہائی پروفائل رابطوں کے ساتھ منسلک رہا  ہے۔

ایلون مسک کی نئی سیاسی پارٹی

 ڈونلڈ ٹرمپ سے تعلقات توڑنے کے بعد ایلون  مسک نے نئی سیاسی جماعت بنانے کے خیال پر لوگوں سے رائے مانگی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایلون  مسک اب نہ صرف ٹیکنو کریٹ بلکہ ایک سیاسی رہنما کے کردار میں آنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھنے کو ملی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر سے ملاقات کے دوران کہا کہ میں ایلون مسک سے بہت مایوس ہوں۔ میں نے ان کی بہت مدد کی تھی۔ اس پر ایلون مسک نے کہا کہ اگر میں وہاں نہ ہوتا تو ٹرمپ الیکشن ہار جاتے۔ انہو ں نے کبھی شکر ادا نہیں کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس سب کے درمیان  ڈونلڈ ٹرمپ اسپیس ایکس، ٹیسلا جیسی کمپنیوں کے سرکاری معاہدے ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں،جس سے معیشت میں ایلون مسک کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔ ادھر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے باعث ٹیسلا کےا سٹاک میں زبردست کمی ہوئی ہے۔ سرمایہ کاروں میں بے یقینی اور خوف کی فضا   بنی ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read