دہلی کے بوانا علاقے میں آج صبح ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی۔ آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں۔ آگ کے شدید شعلوں پر قابو پا لیا گیا ہے۔قابل ذکربات یہ ہے کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پانے کا کام تاحال جاری ہے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی خبر نہیں ہے۔
#WATCH | दिल्ली: बवाना की एक फैक्ट्री में लगी आग को बुझाने के प्रयास जारी हैं। आग बुझाने के लिए दमकल की 22 गाड़ियां मौके पर हैं। https://t.co/iE4doeP05q pic.twitter.com/N5ficFE1Q6
— ANI_HindiNews (@AHindinews) June 27, 2025
دارالحکومت دہلی میں شدید گرمی کے درمیان آگ لگنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شمالی دہلی کے باوانہ علاقے میں آج صبح ایک فیکٹری میں زبردست آگ لگ گئی۔ فائر بریگیڈ کے 110 اہلکاروں کی ٹیم موقع پر آگ بجھانے میں مصروف ہے۔ اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے فائر ڈائریکٹر اتل گرگ نے کہا کہ کنٹرول روم کو صبح 4:15 بجے اس معاملے کی اطلاع دی گئی۔ جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا گیا۔
یہ حادثہ بوانا کے سیکٹر 4 میں واقع ایک فیکٹری میں پیش آیا۔ فائر بریگیڈ کی 22 گاڑیاں اس وقت موقع پر آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔ آگ بجھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، راحت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
#WATCH | दिल्ली: बवाना की एक फैक्ट्री में आग लगी आग बुझाने के लिए 22 दमकल गाड़ियां मौके पर हैं। आग पर काबू पा लिया गया है। हालांकि, आग पर पूरी तरह काबू पाने का काम अभी भी जारी है। अभी तक किसी के हताहत होने की खबर नहीं है।
(सोर्स: अग्निशमन विभाग) pic.twitter.com/D8VyvNR9dl
— ANI_HindiNews (@AHindinews) June 27, 2025
آسمان پر سیاہ دھوئیں کے بادل
آگ لگنے کے بعد دہلی کے آسمان پر سیاہ دھویں کے بادل چھا گئے۔ آگ لگنے کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے ویڈیوز وائرل ہوئے ہیں، جو کافی خوفناک ہیں۔ دوسری جانب آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ فائر بریگیڈ کی ایک ٹیم نے آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


