پارلیمنٹ کا مانسون سیشن پیر (21 جولائی) سے شروع ہو رہا ہے۔ سیشن کے آغاز سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے۔ یہ مانسون سیشن 21 جولائی سے 21 اگست تک جاری رہے گا۔ یہ سیشن کل 32 دنوں تک چلے گا، جس کے دوران 21 اجلاس ہوں گے۔ یوم آزادی کی تقریبات کے پیش نظر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان 12 اگست سے 17 اگست تک ملتوی رہیں گے، جس کے بعد سیشن 18 اگست کو دوبارہ شروع ہوگا۔
مانسون سیشن میں ہنگامہ آرائی کا امکان
اپوزیشن کئی اہم معاملات پر حکومت سے جواب طلب کر رہی ہے۔ سب سے اہم معاملہ آپریشن سندور ہے، جس پر بحث کی جائے گی۔ یہ بحث 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد ہو رہی ہے، جس میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اپوزیشن نے وزیر اعظم مودی سے اس معاملے پر بیان دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی بار بار کی گئی پیشکش پر وضاحت مانگی ہے۔
سیشن کے دوران بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری جانچ (SIR) پر بھی بحث متوقع ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کی شفافیت اور وقت کے تعین پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ آئندہ ریاستی انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکومت کئی اہم بل پیش کرے گی
اس مانسون سیشن کے دوران حکومت کئی اہم بل پیش کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان میں جی ایس ٹی میں اصلاحات، ٹیکسیشن قوانین، عوامی اعتماد کا ضابطہ، کھیلوں کا انتظام، بندرگاہوں اور معدنیات، اور ارضی ورثے کے تحفظ سے متعلق مجوزہ قوانین شامل ہیں۔
لوک سبھا میں نیا انکم ٹیکس بل 2025 پر پارلیمانی پینل کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں ایک جج کو برطرف کرنے کی تجویز پر بھی بحث کا امکان ہے۔
پارلیمنٹ سیشن کے آغاز سے قبل اتوار کو آل پارٹی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے صحافیوں سے کہا،”ہم آپریشن سندور جیسے اہم قومی معاملات پر بحث کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ قومی اہمیت کے مسائل ہیں۔ حکومت نہ تو ان سے پیچھے ہٹی ہے اور نہ ہی کبھی ہٹے گی، بلکہ قواعد و ضوابط اور روایات کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے لیے قواعد و روایات بہت اہم ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


