وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے قومی کھیل پالیسی (NSP) 2025 کو منظوری دے دی۔ یہ ایک تاریخی اقدام ہے، جس کا مقصد ملک کے کھیلوں کے منظر نامے کو نئی شکل دینا اور کھیلوں کے ذریعے لوگوں کو بااختیار بنانا ہے۔
مرکزی کابینہ نے منگل کو کھیلو انڈیا پالیسی کو منظوری دی تاکہ ہندوستان کو عالمی کھیلوں میں ٹاپ پانچ میں شامل کیا جا سکے۔ اس کا مقصد مضبوط انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی کوچنگ اور سپورٹ کے لحاظ سے ایک ‘عالمی معیار کا نظام’ بنانا ہے تاکہ ملک کو 2036 کے اولمپکس کا مضبوط دعویدار بنایا جا سکے۔
پہلے اسے قومی کھیل پالیسی کہا جاتا تھا اور اسے پہلی بار 1984 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ کھیلو انڈیا پالیسی 2025 اب 2001 کی پالیسی کی جگہ لے گی۔ یہ ملک کے کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کی بہتری کے لیے منصوبے بنانے کے لیے ایک ‘رہنمائی دستاویز’ ہے۔
ہندوستان نے 2036 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی اپنی خواہش ظاہر کی ہے، جس کے لیے بنیادی ڈھانچہ بنانے اور ملک میں بین الاقوامی سطح کے ایونٹس لانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ پریس انفارمیشن بیورو کے بیان میں نئی پالیسی کو مرکزی وزارتوں، نیتی آیوگ، ریاستی حکومتوں، قومی کھیلوں کی تنظیموں، کھلاڑیوں، ماہرین اور اس معاملے پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ‘وسیع مشاورت’ کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹر پر لکھا، ‘کھیل کے ہنر کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کا مرکز بننے کی ہندوستان کی کوششوں کے لیے آج کا دن ایک تاریخی دن ہے۔ کابینہ نے کھیلوں کے لیے قومی پالیسی، کھیلو انڈیا پالیسی کو منظوری دے دی ہے۔’ انہوں نے کہا، ‘یہ پالیسی پانچ ستونوں پر مبنی ہے۔ اس میں عالمی سطح پر بہترین کارکردگی، معاشی ترقی کے لیے کھیل، سماجی ترقی کے لیے کھیل، ایک عوامی تحریک کے طور پر کھیل، تعلیم کے ساتھ انضمام (NEP 2020) شامل ہیں۔’ انہوں نے کہا، ‘ہندوستانی کھیلوں کا ٹیلنٹ ہمیشہ پروان چڑھتا رہے۔’ کھیلو انڈیا پالیسی کے تحت کھیلوں کو سیاحت اور اقتصادی ترقی سے جوڑا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


