پاکستانی فوج کے خلاف بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کا “آپریشن بام” کے نام سے تین روزہ حملہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ بی ایل ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ 9 جولائی سے 11 جولائی کے دوران انہوں نے پاکستانی فوج کے 84 ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں آئی ای ڈی دھماکے بھی شامل تھے۔ اس دوران کم از کم 50 فوجی اہلکار مارے گئے، جب کہ 51 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔
بی ایل ایف کے مطابق ان حملوں میں فوج کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں – ملٹری انٹیلیجنس (MI) اور آئی ایس آئی (ISI) – کے 9 ایجنٹ بھی ہلاک کیے گئے۔ تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ “آپریشن بام” کے دوران بلوچ جنگجوؤں نے 7 موبائل ٹاورز اور ان کی مشینری کو نذرِ آتش کیا اور 22 مقامات پر عارضی چیک پوسٹس قائم کیں تاکہ پاکستانی فوج کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
72 گھنٹے تک جاری رہا آپریشن بام
بی ایل ایف نے مزید بتایا کہ اس 72 گھنٹے طویل آپریشن میں 24 معدنیات لے جانے والے ٹرک اور گیس ٹینکر تباہ کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچاتے ہوئے پانچ سے زائد ڈرون اور کواڈ کاپٹرز بھی مار گرائے گئے۔ بی ایل ایف کے مطابق ان کے 84 حملوں میں سے 30 سے زائد حملے براہِ راست پاکستانی فوج اور سرحدی محافظوں پر کیے گئے، جبکہ 2 حملے خفیہ ایجنسیوں پر، 4 گھات لگا کر کیے گئے، اور ایک ایک حملہ کسٹمز اور کوسٹ گارڈ پر کیا گیا۔ مزید یہ کہ 4 حملے لیویز چیک پوسٹوں اور 4 پولیس چوکیوں پر کیے گئے۔
کن علاقوں میں کیا گیا یہ آپریشن؟
بی ایل ایف کے مطابق ان کے جنگجوؤں نے 4 سے زائد مقامات پر پاکستانی فورسز کے اسلحے کو بھی ضبط کیا، جن میں خودکار مشین گنز بھی شامل تھیں۔ یہ پورا آپریشن بلوچستان کے مکران، رخشان، کولوا، سراوان، جھالاوان، کوہِ سلیمان، بیلا اور کچھی جیسے علاقوں میں انجام دیا گیا۔ بی ایل ایف نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل بلوچستان کے وسائل کو لوٹ رہی ہیں، جس کی وجہ سے بلوچ جنگجوؤں نے یہ کارروائیاں کیں۔
بی ایل ایف نے اعلان کیا کہ اب پاکستان بلوچستان کے وسائل کو مزید نہیں لوٹ سکتا، اور پنجابی حکومت اور اس کی طاقتور فوج بلوچ قوم کو ظلم کے ذریعے دبا نہیں سکتی۔ بی ایل ایف نے پاکستانی فوج کو نوآبادیاتی استحصال کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام اب جھوٹے جمہوریت، اسلامی بھائی چارے کے کھوکھلے نعروں اور تقسیم کی چالوں سے بہکنے والی نہیں ہے
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

