نئی دہلی: وقف امینڈمینٹ ایکٹ یا وقف ترمیمی قانون پرسپریم کورٹ میں آج کی سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ تقریباً دوگھنٹے تک ہوئی سنوائی کے دوران قانون کی آئینی حیثیت کوچیلنج دینے والوں کا سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ اس قانون پربغیرکسی تاخیرکے روک لگائی جائے۔ حالانکہ عدالت نے ایسا کوئی حکم صادرتونہیں کیا، لیکن وہ آج کی سماعت کے آخرمیں عبوری حکم جاری کرنے سے متعلق تقریباً تیارہوگئی تھی۔ وقف قانون کے خلاف داخل کی گئی تقریباً 70 سے زیادہ عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے، لیکن درجنوں عرضیوں پر سماعت کی۔ اس دوران سینئر وکیل کپل سبل، ابھیشیک منو سنگھوی، راجیو دھون اور حذیفہ احمدی وغیرہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کے ذریعہ بنائے گئے قانون کی سخت مخالفت کی۔ عدالت کی طرف سے مختلف پہلوؤں اور نکات پر سخت تبصرہ بھی کیا گیا۔ آئیے اب سب سے پہلے آپ کو ہم یہ بتاتے ہیں کہ سنوائی کے دوران سپریم کورٹ سے عبوری حکم جاری کرنے کے لئے تیار ہوگئی تھی، تبھی ایسا کیا ہوا کہ عدالت نے عبوری حکم جاری نہیں کیا؟
دراصل، سینٹرکی مودی حکومت کی طر ف سے عدالت میں پیش ہوئے سالسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کے کچھ تبصروں پر اعتراض کردیا، جس کے بعد عدالت جس طرف بڑھ رہی تھی، وہیں رک گئی اور اس سنوائی پر کل کے لئے بھی راضی ہوگئی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے حکومت کو نوٹس جاری کیا اور 15 دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا وقت دیا ہے۔ آئیے اب جانتے ہیں کہ عدالت کیا عبوری حکم دینے والی تھی اور حکومت نے کیا اعتراض کیا؟
عدالت کے عبوری حکم میں سب سے پہلی اہم بات یہ تھی کہ جب تک وہ وقف امینڈمینٹ ایکٹ 2025 پراپنا حتمی فیصلہ نہیں دیتی، عدالت کی جانب سے وقف قراردی گئی کسی بھی جائیداد یا املاک کی حیثیت کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ وہ ’وقف بائی یوزر‘ ہویا پھر’وقف بائی ڈیڈ‘۔
آئیے اب آپ کوبتاتے ہیں کہ ‘وقف بائی یوزر’ کا کیا مطلب ہے؟ وہ جائیداد جومذہبی مقاصد کے لئے استعمال ہورہی ہو۔ اس طرح کی جائیدادوں کواب تک وقف سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ طویل عرصے سے کسی خاص مذہب کے استعمال میں تھیں، لیکن نئے قانون کے بعد یہ نظام ختم ہوگیا ہے۔ اب یہ جائیدادیں جوزیراستعمال یا وقف بائی یوزرہیں ان کوبھی نئے سرے سے رجسٹرکرانا ہوگا۔ ساتھ ہی ‘وقف بائی ڈیڈ’ کا مطلب ہے ان جائیدادوں کووقف کے طورپرقبول کرنا، جن کے لئے قانونی دستاویزات دستیاب ہیں۔
آئیے اب دوسری اہم بات بتاتے ہیں۔ نئے وقف ترمیمی قانون میں ہے کہ اگروقف کی کسی جائیداد پر تنازعہ ہوگیا تو جب تک ڈی ایم اس پراپنا آخری فیصلہ نہیں سنا دیتا، اس جائیداد کے وقف کا درجہ منسوخ مانا جائے گا۔ عدالت عبوری حکم جاری کرکے اس التزام کو بھی ملتوی کرنا چاہتی تھی۔ عدالت کا موقف تھا کہ ڈی ایم اس سلسلے میں نئے قانون کے لحاظ سے اپنی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے، مگرنیا التزام فی الحال کے لئے نافذ نہیں ہو گا۔
تیسری اہم بات یہ ہے کہ عدالت یہ حکم بھی صادر کرنے والی تھی کہ سابق ممبران کے علاوہ وقف بورڈ اورسنٹرل وقف کونسل کے تمام ممبران مسلمان ہونے چاہئیں، لیکن حکومت کو یہاں بھی ایک پریشانی نظرآئی۔ حکومت کے اعتراض کے بعد عدالت نے اس عبوری حکم پر کل کی سماعت میں غورکرنے کا فیصلہ کیا۔
بہرحال عدالت نے آج کی سماعت کے دوران نہ صرف حکومت بلکہ قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج دینے والوں سے بھی کافی تلخ سوال پوچھے۔ عدالت نے حکومت سے وقف کونسل اور بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی صحیح تعداد، وقف بائی یوزر کو ختم کرنے والے التزام پر صورتحال واضح کرنے کا حکم دیا۔ ممکن ہے کہ حکومت آئندہ دو ہفتے میں ان سب موضوعات پر جواب داخل کرے۔ اس کے بعد عدالت کا حتمی فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔ بہرحال عدالت کا فیصلہ وقف قانون سے متعلق کیا آتا ہے، یہ تو بعد میں پتہ چلے گا، لیکن حکومت اور مسلم تنظیموں کے ساتھ اپوزیشن کے درمیان یہ لڑائی کسی بھی طرح سے کم نہیں ہونے والی ہے۔
ہندوستان کے چیف جسٹس سنجیوکھنہ نے آج مرکزی وزارت قانون کوجسٹس بی آرگوئی کواگلا چیف جسٹس مقررکرنے کی سفارش کی۔ وہ 14 مئی 2025 کو ملک کے 52ویں چیف جسٹس کے طورپرحلف لیں گے۔ موجودہ چیف جسٹس سنجیوکھنہ 13 مئی کو ریٹائر ہوں گے۔ جسٹس بی آرگوئی شیڈول کاسٹ سے آنے والے دوسرے چیف جسٹس ہوں گے۔ ان سے پہلے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن بھی شیڈول کاسٹ کے تھے۔ جسٹس بی آرگوئی عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ بعد تک چیف جسٹس رہیں گے اورنومبر2025 میں ریٹائرہوں گے۔ جسٹس بی آرگوئی کا تعلق مہاراشٹرکے امراوتی سے ہیں۔ انہوں نے سال 1985 میں وکیل کے طورپر اپنا کام شروع کیا تھا اور اب وہ چیف جسٹس کا عہدہ آئندہ ماہ سنبھالنے والے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


