ہر روز مہا کمبھ میں اسنان کے لیے عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ پریاگ راج میں جمع ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے پورا شہر جام ہوچکا ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا ٹریفک جام لگا ہوا ہے۔اتوار سے ہجوم کی صورتحال ایسی ہے کہ لوگ 20 منٹ کا فاصلہ طے کرنے کے لیے کئی گھنٹوں تک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔پریاگ راج سے متصل تمام شہروں میں ایسا جام ہے کہ انتظامیہ کے ہاتھ پاوں پھول رہے ہیں ، چونکہ سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں ابھی ٹریفک میں پھنسی ہوئیں ہیں اور آئندہ دو دنوں تک یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ مرزاپور،وارانسی ،لکھنو ،پڑتاپ گڑھ،بھدوہی ،کانپور اورمدھیہ پردیش کے کٹنی سرحد پر بھاری ٹریفک جام ہے جہاں گھنٹوں میں گاریاں دو قدم آگے بڑھ رہی ہیں ۔بھیڑ اتنی زیادہےکہ پریاگ راج سنگم ریلوے اسٹیشن بند کر دیا گیاہے۔ میلے کی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 13 جنوری سے 9 فروری تک 43.57 کروڑ سے زیادہ عقیدت مندوں نے سنگم میں ڈبکی لگائی ہے۔
ٹریفک اے ڈی سی پی نے وجہ بتائی
ٹریفک اے ڈی سی پی کلدیپ سنگھ نے کہاکہ گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور مسافر جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ قریب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے لمبا ٹریفک جام لگ رہا ہے اور اس بھیڑ کی وجہ سے ہمیں مونی امواسیہ کا نظام نافذ کرنا پڑاہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں بھیڑ اب آ رہی ہے جتنی مونی اماوسیہ پر آئی تھی۔ دور دراز کی پارکنگ 50 فیصد بھری ہوئی ہے۔ قریبی پارکنگ ایک چھوٹی پارکنگ ہے جبکہ دور میں پارکنگ لاٹ بڑی ہے، پھر بھی گاڑیوں کی قطار یں لگی ہوئی ہیں۔
Mahakumbh effect 🚦#Mahakumbh #MahaKumbh2025 #MahaKumbhMela2025 #prayagrajtraffic pic.twitter.com/kCPS1dP0iT
— अजित बनारसी (@ajitupadhyayvns) February 10, 2025
دریں اثنا، مشرقی دہلی کے یمنا وہار کے ایک خاندان نے بتایا کہ انہیں راستے میں بڑے ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں کئی گھنٹوں تک گاڑیوں میں پھنسے رہنا پڑا۔ کمبھ میلہ کے علاقے میں پہنچنے کے بعد بھی ہمیں کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔ صورت حال ایسی تھی کہ سنگم ناک کے پاس پاؤں تک رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ بڑی مشکل سے اسنان کیا۔ اب واپس جانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی کیونکہ اب بھی مختلف مقامات سے ٹریفک جام کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
महाकुम्भ प्रयागराज जाने वाले सभी रास्तों पर लगा खतरनाक जाम.. कानपुर के आउटर से ही जाम…😱 #MahaKumbh2025 #prayagrajtraffic pic.twitter.com/4YhhPKErv4
— Lata Agarwal (@_LataAga1) February 10, 2025
اپنے خاندان کے ساتھ دہلی سے مہا کمبھ میں آئی پوجا کا کہنا ہے کہ ہم ہفتہ کی رات 9 بجے روانہ ہوئے۔ کئی جگہوں پر اتنا ٹریفک جام تھا کہ اتوار کی شام چار بجے ہمیں پریاگ راج میں داخلہ ملا، پھر پارکنگ کی تلاش میں کئی گھنٹے بھٹکنا پڑا۔ رات کے 12 بج رہے تھے۔ آخر کار صبح 4 بجے گھاٹ پہنچے اور صبح 7 بجے کے بعد ڈبکی لی۔ ہم نے تقریباً 5 کلومیٹر پیدل چل کر گھاٹ پر پہنچے، جس میں تقریباً 3 گھنٹے لگے۔ کیونکہ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ یمنا وہار سے پریاگ راج کا فاصلہ تقریباً 670 کلومیٹر ہے، سڑک کے ذریعے اس سفر کو مکمل کرنے میں تقریباً 11 گھنٹے لگتے ہیں، لیکن ٹریفک جام کی وجہ سے پوجا اور اس کے خاندان کے اس سفر میں 24 گھنٹے لگ گئے۔ گھاٹ تک پہنچنے میں زیادہ وقت لگا۔
“प्रयागराज में हालात बेकाबू! लोग आते हैं तो मर जाते हैं, और अब सरकार कह रही है-मत आओ, लौट जाओ! यूपी पुलिस खुद कह रही है कि ट्रैफिक संभालना मुश्किल है, हालात उनके काबू में नहीं हैं। यही है योगी सरकार का अविश्वसनीय ‘मैनेजमेंट’! #Prayagraj #YogiGovt#MahaKumbh2025#prayagrajtraffic pic.twitter.com/AnKIVRQHSL
— It’s Rahul (@chorameenaka) February 10, 2025
جام کے باعث بچوں اور بزرگوں کی حالت ابتر ہو گئی ہے۔ ہریانہ کے ایک عقیدت مندنے بتایا کہ ہم مہا کمبھ میں اسنان کرنے آئے تھے۔ ہم گزشتہ 36 گھنٹوں سے یہاں موجود ہیں اور باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔ مجھے ہریانہ جانا ہے۔ یوپی حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ عقیدت مندوں کے لیے مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔ لیکن یہاں ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
