ہر سال 12 اگست کو دنیا بھر میں ولڈایلیفینٹ ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا کے ان عظیم اور ذہین ترین جانوروں کے تحفظ کے بارے میں عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنا، غیر قانونی شکار کو روکنا اور انسان و ہاتھی کے درمیان بڑھتے تنازع کو کم کرنا ہے۔ ہاتھی صرف جنگلات کی شان ہی نہیں بلکہ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے سائنس دان انہیں ’ایکو سسٹم انجینئر‘ اور ’کلائمیٹ ہیرو‘ قرار دیتے ہیں۔ہاتھی اپنے پیروں اور سونڈ کے ذریعے زمین میں 20 ہرٹز سے کم فریکوئنسی والی انفراساؤنڈ لہریں پیدا کرتے ہیں۔ ان کمپن کو سیسمک وائبریشن کہا جاتا ہے اور یہ تقریباً 32 کلومیٹر دور تک محسوس کی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہاتھیوں کے پیروں میں ’پیسینین کارپسکلز‘ نامی خصوصی خلیے موجود ہوتے ہیں، جو زمین کی کمپن کو محسوس کرکے ہڈیوں کے ذریعے براہ راست کانوں تک پہنچاتے ہیں۔
سونڈ میں 40 ہزار سے زائد پٹھے
ہاتھی کی سونڈ بھی قدرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ اس میں 40 ہزار سے زیادہ پٹھے پائے جاتے ہیں، جو انسانی جسم میں موجود مجموعی پٹھوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ ہاتھیوں میں خود کو آئینے میں پہچاننے کی نایاب صلاحیت بھی پائی جاتی ہے، جو ان کی غیر معمولی ذہانت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ولڈایلیفینٹ ڈے (عالمی یومِ ہاتھی) کا آغاز 12 اگست 2012 کو کینیڈین فلم ساز پیٹریشیا سمز اور تھائی لینڈ کے ’ایلیفینٹ ری انٹروڈکشن فاؤنڈیشن‘ نے کیا تھا۔ اس دن کا بنیادی مقصد ہاتھیوں کے غیر قانونی شکار اور انسان و ہاتھی کے تصادم کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
جنگلات اور موسمیاتی توازن میں اہم کردار
ہاتھی جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ کاربن جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ایک جنگلی ہاتھی تقریباً 250 ایکڑ جنگلات کی کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے، جو تقریباً 2,047 گاڑیوں کے سالانہ اخراج کو ماحول سے ہٹانے کے برابر بتایا جاتا ہے۔ ایک ہاتھی کی جانب سے فراہم کی جانے والی کاربن کیپچر سروس کی اقتصادی قدر 17.5 لاکھ ڈالر تک بتائی گئی ہے۔جنگل میں گھومتے ہوئے ہاتھی کم کاربن کثافت والے چھوٹے درختوں کو کھاتے اور روندتے ہیں۔ اس طرح بڑے درختوں کے لیے جگہ اور سورج کی روشنی دستیاب ہوتی ہے، جس سے زیادہ کاربن ذخیرہ کرنے والے درختوں کی نشوونما میں مدد ملتی ہے۔
بیج پھیلانے میں بھی اہم کردار
ہاتھیوں کا حمل تقریباً 18 سے 22 ماہ تک جاری رہتا ہے، جو خشکی پر رہنے والے ممالیہ جانوروں میں سب سے طویل مدت ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد ہاتھیوں کا جھنڈ کئی میل تک سفر کرتا ہے اور اس دوران ان کے فضلے کے ذریعے بڑے درختوں کے بیج دور دراز علاقوں تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح جنگلات کے پھیلاؤ اور قدرتی تجدید میں مدد ملتی ہے۔لیکن دوسری طرف غیر قانونی دانتوں کی تجارت کے باعث افریقی ہاتھیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق غیر قانونی شکار کی وجہ سے ہر روز تقریباً 50 افریقی ہاتھی مارے جاتے ہیں۔
ہاتھیوں کے تحفظ میں بھارت کا اہم کردار
دنیا میں موجود ایشیائی ہاتھیوں کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی بھارت میں پائی جاتی ہے، اس لیے ان کے تحفظ میں بھارت کا کردار انتہائی اہم ہے۔ حکومت ہند نے 1992 میں ’پروجیکٹ ایلیفینٹ‘ شروع کیا تھا۔ اس کے تحت ملک میں 33 ہاتھی ریزرو اور 150 سے زیادہ ہاتھی کوریڈور قائم کیے گئے ہیں۔اکتوبر 2025 میں جاری بھارت کی پہلی ڈی این اے پر مبنی سائنسی ہاتھی مردم شماری کے مطابق ملک میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد 22,446 ریکارڈ کی گئی۔
’دی ایلیفینٹ وِسپررز‘ نے دنیا کی توجہ کھینچی
بھارت میں انسان اور ہاتھی کے درمیان بقائے باہمی کے لیے جذباتی اور تکنیکی دونوں سطحوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ آسکر ایوارڈ یافتہ بھارتی دستاویزی فلم ’دی ایلیفینٹ وِسپررز‘ نے مدوملائی ٹائیگر ریزرو میں بومن اور بیلی کی جانب سے یتیم ہاتھی کے بچوں رگھو اور امّو کی بے لوث دیکھ بھال کی کہانی دنیا کے سامنے پیش کی۔ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارتی ریلوے نے ’گج راج سسٹم‘ نامی اے آئی پر مبنی حفاظتی نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ تقریباً 181 کروڑ روپے کی لاگت والے اس نظام میں ریلوے پٹریوں کے نیچے بچھائی گئی آپٹیکل فائبر کیبل کے ذریعے ہاتھیوں کے قدموں سے پیدا ہونے والی کمپن کو تقریباً 99.5 فیصد درستگی سے شناخت کرکے ٹرین ڈرائیوروں کو بروقت خبردار کیا جاتا ہے۔کیرالا اور کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں شہد کی مکھیوں کے چھتے اور مرچ کی باڑ جیسے قدرتی طریقے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ ہاتھیوں کو نقصان پہنچائے بغیر انسانی آبادیوں سے دور رکھا جا سکے۔
ولڈایلیفینٹ ڈے کا پیغام
12 اگست 2026 کا ولڈایلیفینٹ ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہاتھیوں کا تحفظ صرف ایک جنگلی جانور کو بچانے کا معاملہ نہیں بلکہ جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور زمین کے موسمیاتی توازن کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر ہاتھیوں کا وجود خطرے میں پڑا تو اس کے اثرات پورے ماحولیاتی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


