Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن پر حکومت کو شکست، پی ایم مودی کے “چانکیہ” بھی ناکام

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

نئی دہلی :لوک سبھا میں گزشتہ دو دنوں سے خواتین ریزرویشن بل پر زبردست بحث دیکھنے کو ملی، جہاں حکومت کی بھرپور کوششوں کے باوجود بل منظور نہیں ہو سکا اور اپوزیشن کے سخت مؤقف کے باعث حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت کی جانب سے بل کو منظور کرانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر امت شاہ نے سنبھال رکھی تھی۔ اس دوران نریندر مودی نے بھی اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی اور اکھلیش یادو کو اپنا “دوست” قرار دیا۔ تاہم، حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود اپوزیشن اپنے موقف پر قائم رہی۔

ووٹنگ میں حکومت کو شکست

خواتین ریزرویشن سے متعلق بل پر ہوئی ووٹنگ میں کل 528 ارکان نے حصہ لیا۔

  • بل کے حق میں ووٹ: 298
  • بل کی مخالفت میں ووٹ: 230

بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔

آگے کا راستہ کیا؟

حکومت کے پاس اب ان بلوں کو منظور کرانے کے لیے Joint Session of Parliament کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔

اس کے علاوہ خواتین ریزرویشن سے متعلق ایک قانون پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس کے تحت یہ قانون 2034 کے انتخابات میں نافذ ہونا ہے۔ موجودہ بل خواتین ریزرویشن کو پانچ سال پہلے نافذ کرنے کی کوشش تھی، جو ناکام ہو گئی، تاہم اصل قانون برقرار ہے۔

کن بلوں پر ہوئی ووٹنگ؟

خواتین ریزرویشن سے متعلق تین اہم بلوں پر ووٹنگ ہوئی:

  • 131واں آئینی ترمیمی بل 2026
  • حد بندی (ڈیلمیٹیشن) بل 2026
  • مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قانون میں ترمیم بل 2026

اس طرح اپوزیشن کی متحدہ حکمت عملی نے حکومت کو بڑا سیاسی جھٹکا دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read