نئی دہلی:لوک سبھا میں 131ویں آئینی ترمیم یعنی خواتین ریزرویشن بل ووٹنگ کے دوران منظور نہیں ہو سکا۔ کل 532 ووٹوں میں سے 298 بل کے حق میں، جب کہ 230 مخالفت میں پڑے، تاہم مطلوبہ اکثریت نہ ملنے کے باعث بل مسترد ہو گیا۔اس پر پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس خواتین ریزرویشن کی مخالفت نہیں کرتی، لیکن اسے پرانی مردم شماری اور حد بندی (ڈیلمیٹیشن) سے جوڑنا قابل قبول نہیں ہے، خاص طور پر جب اس میں او بی سی طبقے کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسے جمہوریت اور ملک کی یکجہتی کے لیے “جیت” قرار دیا اور کہا کہ یہ آئین پر حملہ تھا جسے روک دیا گیا۔
“مسیحا بننے کی کھوکھلی کوشش ناکام“
संसद और विधानसभाओं में महिला आरक्षण इस देश की महिलाओं का हक है जो उनको मिलने से कोई नहीं रोक सकता। एक दिन यह हकीकत में परिवर्तित होकर रहेगा।
मगर बदनीयती से इसे 2011 की जनगणना और उस पर आधारित परिसीमन से जोड़कर प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी जी का महिलाओं का मसीहा बनने का खोखला…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) April 17, 2026
پرینکاگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین ریزرویشن ملک کی خواتین کا حق ہے اور ایک دن یہ ضرور حقیقت بنے گا۔انہوں نے کہا کہ 2011 کی مردم شماری اور اس پر مبنی حد بندی سے جوڑ کر نریندر مودی کی خواتین کے مسیحا بننے کی کوشش آج ناکام ہو گئی۔پرینکا گاندھی نے مزید لکھا کہ اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمہوریت اور ملک کی سالمیت کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے اپوزیشن کے تمام ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہو جاتے تو ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
خواتین ریزرویشن پر لوک سبھا میں گرما گرم بحث
خواتین ریزرویشن بل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث دیکھنے کو ملی۔ نریندر مودی نے تمام جماعتوں سے بل کی حمایت کی اپیل کی، جب کہ اپوزیشن نے اس پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے۔راہل گاندھی نے لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے اس بل کو “فریب” قرار دیا اور کہا کہ یہ بل یہیں گر جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعی خواتین کے مفاد میں نہیں ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ 2023 میں منظور ہونے والے خواتین ریزرویشن بل کے وقت ہی حکومت کے اتحادیوں نے اشارہ دیا تھا کہ اس کے نفاذ میں کافی وقت لگ سکتا ہے، اور موجودہ تجویز اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
