نئی دہلی:شمالی بھارت کے موسم نے ایک بار پھر کروٹ لے لی ہے۔ آج 22 جنوری سے آنے والے چند دن پورے خطے کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ایک طرف پہاڑی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے تو دوسری جانب میدانی علاقوں میں بارش اور تیز ہوائیں سردی کی شدت میں اضافہ کریں گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک نیا مغربی اضطراب شمالی بھارت میں داخل ہو چکا ہے، جسے بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے وافر نمی مل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران موسم کا مزاج نمایاں طور پر بدلنے کا امکان ہے۔
#WATCH | Delhi: A layer of smog engulfs the national capital. Visuals from ITO.
AQI in the area was recorded at ‘331’ in the ‘very poor’ category, as claimed by CPCB. pic.twitter.com/cfMzu9rpMJ
— ANI (@ANI) January 22, 2026
کشمیر سے لے کر ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ تک پہاڑی علاقوں میں آج سے موسمی سرگرمیاں تیز ہو جائیں گی۔ جموں و کشمیر، لداخ اور ہماچل کے کئی حصوں میں بھاری برفباری اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ان علاقوں میں 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں اور آسمانی بجلی گرنے کا بھی خدشہ ہے۔ اتراکھنڈ کے اضلاع جیسے اترکاشی، چمولی، رودرپریاگ اور پیتھوراگڑھ کے بلند مقامات پر ہلکی برفباری اور بارش کا امکان ہے۔ اگرچہ سیاحوں کے لیے یہ منظر دلکش ہو سکتا ہے، لیکن مقامی آبادی کے لیے مشکلات میں اضافہ بھی کر سکتا ہے۔
دارالحکومت دہلی میں آج صبح ہلکی دھند
دارالحکومت دہلی میں آج صبح ہلکی دھند دیکھی گئی، تاہم دن چڑھنے کے ساتھ دھوپ نکلنے کی امید ہے۔ دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 21 ڈگری سیلسیس رہ سکتا ہے، لیکن دوپہر کے بعد ہواؤں کی رفتار بڑھنے سے شام کے وقت سردی کا احساس زیادہ ہو جائے گا۔ پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے کچھ حصوں میں صبح کے وقت گھنا کہرا چھائے رہنے کا امکان ہے، جس سے سڑکوں پر آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اگلے دو دنوں میں کم سے کم درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری کے اضافے کی توقع ہے، جس سے رات کی شدید سردی سے کچھ راحت مل سکتی ہے۔
اتر پردیش کے لیے آنے والے دن قدرے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔ لکھنؤ، کانپور اور قریبی علاقوں میں اگرچہ کہرا کم رہے گا، لیکن محکمہ موسمیات نے 22 سے 27 جنوری کے درمیان بارش اور تیز ہواؤں کے پیش نظر اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ مغربی یوپی میں آج سے بوندا باندی شروع ہو سکتی ہے، جبکہ بعض اضلاع میں ژالہ باری کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 30 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں فصلوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



