Bharat Express DD Free Dish

Who Is Madani?: ’’کون ہیں محمود مدنی؟‘‘، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے جمعیۃ علماء ہند کے صدر کو جیل میں ڈالنے کی دی دھمکی

مولانا محمود مدنی نے گوالپاڑہ میں بے دخلی کے مقام کا دورہ کیا اور پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند زمین پر ناجائز قبضے کی حمایت نہیں کرتی، مگر حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

آل انڈیا جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے آسام کے ضلع گوالپاڑہ میں حالیہ بے دخلی مہمات کی جگہوں کے دورے کے بعد آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’مدنی کون ہیں؟ کیا وہ کوئی خدا ہیں؟ ان کی اہمیت صرف کانگریس حکومت میں تھی، بی جے پی میں نہیں۔ میں وزیر اعلیٰ ہوں، مدنی نہیں۔ مجھے مدنی سے کوئی ڈر نہیں۔‘‘ ہیمنتا سرما نے مزید کہا کہ اگر مولانا مدنی نے ’’حد پار کی‘‘ تو انھیں ’’جیل بھیج دیا جائے گا‘‘۔

وزیر اعلیٰ سرما نے مولانا محمود مدنی کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے انھیں اجازت دی تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ زمین پر ناجائز قبضے کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔ کچھ باہر کے لوگ گاؤں والوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور بی جے پی پر الزام لگا رہے ہیں، جب کہ بی جے پی کسی سے نہیں ڈرتی۔‘‘

مولانا مدنی نے دیا جواب

اس کے جواب میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’میں کل سے ان کی ریاست میں موجود ہوں۔ وہ کہتے ہیں ہر مسلمان کو بنگلہ دیش بھیج دینا چاہیے۔ تو جو اس ملک میں نفرت پھیلا رہے ہیں، انھیں پاکستان جانا چاہیے۔‘‘ مولانا نے مزید کہا کہ ’’نفرتی چنٹو اس خوبصورت ملک میں کیوں رہیں، جس کی قدیم تہذیب اور ہم آہنگی پوری دنیا میں مشہور ہے؟ ہم سب کو ایک ساتھ رہنا ہے، نفرت کے ساتھ نہیں۔‘‘

بے دخلی مہم اور عدالتی اصول

مولانا محمود مدنی نے گوالپاڑہ میں بے دخلی کے مقام کا دورہ کیا اور پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند زمین پر ناجائز قبضے کی حمایت نہیں کرتی، مگر حکومت کو سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے بارہا کہا ہے کہ بے دخلی کے وقت متاثرین کی بازآبادکاری ضروری ہے۔ اگر وہ غیر ملکی ہیں تو بے دخل کریں، لیکن اگر بھارتی شہری ہیں تو انھیں بسانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read