Bharat Express DD Free Dish

Omar Abdullah: جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ کب ملے گا؟ عمر عبداللہ کی امت شاہ سے ملاقات سے پہلے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا بڑا بیان

 ستپال شرما نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دے دیا جائے گا۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ریاستی درجہ بحال ہو،

نئی دہلی : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ان دنوں دہلی کے دورے پر ہیں، جہاں ان کی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ ستپال شرما نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دیے جانے کے معاملے پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب وقت آنے پر مرکز اس وعدے کو ضرور پورا کرے گا۔بی جے پی ایم پی ستپال شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جب چاہیں مرکزی وزیر داخلہ یا وزیر اعظم سے ملاقات کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ جموں و کشمیر کے منتخب وزیر اعلیٰ ہیں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہر ملاقات کے بعد ریاستی درجہ بحال کرنے کا معاملہ بار بار اٹھایا جاتا ہے، جب کہ موجودہ وقت میں سب سے زیادہ ضرورت ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کی ہے۔

 ستپال شرما نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ واپس دے دیا جائے گا۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ ریاستی درجہ بحال ہو، لیکن اس کے لیے صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ستپال شرما نے مزید کہا کہ مرکز نے کبھی بھی ریاستی درجہ بحال کرنے سے انکار نہیں کیا، لیکن نیشنل کانفرنس ہر بار دہلی آکر یہی مطالبہ دہراتی ہے اور اس کے ساتھ دیگر سیاسی ایجنڈے بھی شامل کر دیتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت بننے کے بعد انتخابی منشور میں کیے گئے کئی وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دہلی آکر فنڈز کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ جموں و کشمیر کو مرکز کی جانب سے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مالی وسائل خطے کی ترقی کے لیے کافی ہیں، ضرورت صرف ان کے مؤثر استعمال کی ہے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کی موجودہ انتظامی ساخت کو ’’حکمرانی کی بدترین شکل‘‘ قرار دیتے ہوئے مکمل ریاستی درجہ فوری طور پر بحال کرنے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یونین ٹیریٹری کا موجودہ نظام عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا اور اختیارات کی محدودیت انتظامی مسائل پیدا کر رہی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ  عمر عبداللہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کام کاج کے قواعد و ضوابط کے معاملے میں مرکز کے ساتھ اختلافات کم کرنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے ان قوتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو جموں اور سری نگر کے درمیان سیاسی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی طاقتیں پہلے بھی ناکام رہی ہیں اور آئندہ بھی ناکام رہیں گی۔جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس دینے کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ اب سب کی نظریں عمر عبداللہ اور امت شاہ کی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں، جہاں اس حساس اور اہم مسئلے پر پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read