کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مرکزی سرکار پر یہ الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ڈبلیو ایف آئی کو تحلیل کرنے سے متعلق جھوٹی خبر پھیلا رہی ہے ۔جبکہ ڈبلیو ایف آئی کی تحلیل کے بجائے اس کی سرگرمیوں پر روک لگانے کا فیصلہ لیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ”بی جے پی حکومت ریسلنگ فیڈریشن کو تحلیل کرنے کی جھوٹی خبریں پھیلا رہی ہے۔ ریسلنگ ایسوسی ایشن کو تحلیل نہیں کیا گیا، صرف اس کی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں تاکہ کنفیوژن پھیلا کر ملزمان کو بچایا جا سکے۔ مظلوم عورت کی آواز کو دبانے کے لیے اس نہج تک جانا پڑے گا؟
भाजपा सरकार कुश्ती संघ को भंग करने की झूठी खबर फैला रही है। कुश्ती संघ को भंग नहीं किया गया है, सिर्फ उसकी गतिविधियों को रोका गया है ताकि भ्रम फैलाकर आरोपी को बचाया जा सके। एक पीड़ित महिला की आवाज दबाने के लिए इस स्तर पर जाना पड़ रहा है?
देश को गौरवान्वित करने वाली नामचीन…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) December 25, 2023
پرینکا گاندھی نے مزید لکھا کہ جب ملک کا سر فخر سے بلند کرنے والے مشہور کھلاڑیوں نے بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ پر جنسی استحصال کا الزام لگایا تو حکومت ملزم کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ متاثرین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ملزمان کو انعام دیا گیا۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ وزیر داخلہ احتجاج واپس لینے کے بدلے خواتین پہلوانوں کو دی گئی یقین دہانی کو بھول گئے۔
تکبر کی انتہا یہ ہے کہ بی جے پی ایم پی جس پر خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے، نے خود فیصلہ کیا کہ اگلا قومی کھیل ان کے اپنے ضلع میں، اپنے ہی کالج گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔ اس اندھیرے اور ناانصافی سے شکست کھا کر اولمپک میڈلسٹ ساکشی ملک نے ریسلنگ چھوڑ دی اور جب کھلاڑی اپنے ایوارڈ واپس کرنے لگے تو حکومت افواہیں پھیلا رہی ہے۔جہاں بھی عورت پر تشدد ہوتا ہے، یہ حکومت اپنی پوری طاقت سے ملزم کو تحفظ دیتی ہے اور مظلوم کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ آج ہر شعبے میں خواتین کی قیادت کا چرچہ ہے لیکن اقتدار میں موجود لوگ آگے بڑھنے والی خواتین کو ہراساں کرنے، دبانے اور ان کی حوصلہ شکنی میں مصروف ہیں۔ ملک کی عوام، ملک کی خواتین یہ سب دیکھ رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

