نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھر نے آج سرسی کے کالج آف فاریسٹری میں ’’قوم کی تعمیر میں جنگلات کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک خصوصی پروگرام میں کالج کے اساتذہ اور طلبا سے خطاب کیا۔ نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے زور دے کر کہا کہ’’ہمیں اپنے جنگلات کی حفاظت کرنے اور ہر ممکن طریقے سے تعاون کرنے کا عہد کرنا چاہیے، کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے، ایک عالمی خطرہ ہے۔‘‘ انھوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس سوائے اس زمین کے رہنے کے لیے کوئی اور سیارہ نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا ’’جنگلات انتہائی اہم ہیں۔ جنگلات ہمارے پھیپھڑے ہیں۔ اگر کسی ملک کے جنگلات بہترحالت میں ہوں تو وہاں کے لوگ بھی صحت مند اور تندرست ہوتے ہیں، کیوں کہ جنگل ان کے پھیپھڑے ہیں۔ زراعت ہماری زندگی ہے۔ لیکن ہمیں جنگلات کی ضرورت ہے کیوں کہ وہ آب و ہوا کو منظم کرتے ہیں، آفات کو کم کرتے ہیں اور خاص طور پر غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے لیے زندگی کے ذرائع کی فراہمی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔‘‘
Hon’ble Vice-President, Shri Jagdeep Dhankhar addressed the gathering on “Role of Forestry in Nation Building” at College of Forestry, Sirsi in Karnataka today. @TCGEHLOT #CollegeOfForestry pic.twitter.com/7X7R7FFA9B
— Vice-President of India (@VPIndia) May 5, 2025
ہندوستانی تہذیب پر بھی ڈالی روشنی
ہندوستان کے تہذیبی تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا ’’یہ سرزمین روحانیت اور پائیداری کا سنگم ہے۔ پائیداری صرف معیشت کے لیے ہی اہم نہیں ہے۔بلکہ یہ صحت مند زندگی کے لیے بھی اہم ہے۔ ہماری ویدک ثقافت نے ہزاروں سالوں سے پائیداری کی تبلیغ کی ہےاور آج پائیدار ترقی کے سوا کوئی اور راستہ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہمیں قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال سے گریز کرتے ہوئے خود کو کم سے کم ضروریات تک محدود رکھنا چاہیے۔ ہم سب کو اس سلسلہ میں بیدار ہونے کی ضرورت ہے ۔‘‘
ایک سنجیدہ ماحولیاتی شعور کی اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’ہمیں اس سلسلے میں خود احتسابی کا احساس پیدا کرنا چاہیے کہ ہم مادر وطن، اس کے ماحول، جنگلات، ماحولیاتی نظام، نباتات اور حیوانات کے لیے کتنے مخلص ہیں۔ ہم اس کےامانت دارہیں، صارف نہیں۔ ہم اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے پابند ہیں۔‘‘
پائیدار مستقبل کے لیے ضروری ہے تعلیم: نائب صدر جمہوریہ
ایک پائیدار مستقبل کی تعمیر میں تعلیم کے کردار پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا ’’آج کوئی بھی ادارہ ایک آزاد ادارے کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔ ایک وقت تھا جب طبی تعلیم، انجینئرنگ کی تعلیم، انتظامی تعلیم، ماحولیاتی تعلیم اور جنگل کی تعلیم سبھی الگ الگ تھے۔ لیکن اب سب کچھ بین الضابطہ بن گیا ہے اور اس لیے ہمیں سیکھنے کے لیے ایک جامع طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
نوجوان ذہنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’اپنے اندرنئے علم کی تڑپ اور خواہش رکھیں۔ آپ جس علمی کام میں مصروف ہیں اس میں بہت زیادہ صلاحیتیں ہیں۔ ہمارے ثقافتی ورثے میں آپ جہاں بھی دیکھیں گے، آپ کو ایک خزانہ ملے گا۔ آپ جتنا زیادہ مطالعہ کریں گے اتنا ہی زیادہ آپ قدرت کی خدمت کر سکیں گے۔ آج آپ جس موضوع کا مطالعہ کر رہے ہیں اس میں علاج اور پیداوار کی کلید بن سکتے ہیں۔ آپ واقعتاً تحقیق کے لیے موثر کروسیبل بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب بات جنگل کی پیداوار کی ہو۔‘‘
سرسی کے کالج آف فاریسٹری کی بھی تعریف کی
ادارے کے قدرتی ماحول کی تعریف کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا ’’مغربی گھاٹوں کے دامن میں بسا ہوا سرسی، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے سب سے امیر علاقوں میں سے ایک ہے۔ ایسا ماحول کلاس روم کے تصور کو ہی بدل دیتا ہے۔ یہاں کلاس روم چہار دیواری تک محدود نہیں ہے، یہ ان سے بھی آگے پھیلا ہوا ہے۔ یہ کالج کے لیے مکمل طور پر کھلا کلاس روم ہے جو جنگلات سے گھرا ہوا ہے۔ اپنی قدیم ترین شکل میں۔ یہاں کا نظارہ واقعی غیر معمولی ہے۔ ماحول آپ کو خوشی اور جوش سے بھر دیتا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

