Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia 105th Foundation Day 2025: اردو ہندوستان کے دل کی زبان ہے،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 105ویں یومِ تاسیس پر مرکزی وزیر کرن ریجیجو کا تاریخی خطاب

کرن ریجیجو نے اپنے خطاب میں کہا:جامعہ صرف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی شناخت ہے۔ یہاں ہر مذہب، ہر زبان اور ہر سوچ کے لوگ ایک مقصد کے لیے جمع ہیں  علم کی خدمت۔”

تحریر: خالد مصطفیٰ (علیگ)
اردو جیسی خوبصورت زبان دنیا میں نہیں، یہ زبان محبت، تہذیب اور احترام کی علامت ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، میں 29 اکتوبر 2025 کو مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے جامعہ کے 105ویں یومِ تاسیس پر کہا: اردو ہندوستان کے دل کی زبان ہے۔ یہ محبت، تہذیب اور احترام کی زبان ہے۔ جامعہ نے اردو کو عزت دی اور ہندوستان کی روح کو زندہ رکھا۔ 29 اکتوبر 1920۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ قوم انگریزی غلامی سے نجات کی راہ تلاش کر رہی تھی۔ ایسے نازک دور میں چند باہمت، باشعور اور وطن دوست علما و مفکرین نے قوم کے تعلیمی مستقبل کے لیے وہ سنگِ بنیاد رکھا جس نے صدیوں تک اثر چھوڑنا تھا۔یہی وہ لمحہ تھا جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی، ایک ایسا تعلیمی انقلاب جس نے تعلیم کو غلامی سے آزادی کا ذریعہ بنایا۔

علی گڑھ سے دہلی تک، ایک خواب کی تعبیر

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا آغاز علی گڑھ میں ہوا۔ اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی برطانوی تعلیمی اثر کے زیرِ اثر سمجھی جاتی تھی۔قوم کے مخلص رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ ایک آزاد تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جو اپنے نصاب، زبان اور نظریے میں مکمل خودمختار ہو۔ یوں 29 اکتوبر 1920 کو جامعہ کی بنیاد رکھی گئی، اور 1925 میں اسے دہلی منتقل کیا گیا، جہاں آج یہ علم و تہذیب کا روشن مینار ہے۔

بانیانِ جامعہ، قوم کے فکری معمار

جن شخصیات نے جامعہ کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا، ان میں شامل تھے: مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خان، مولانا محمود الحسن، مولانا محمد میاں، مولانا عبدالمجید بدایونی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی۔ مولانا محمد علی جوہر نے فرمایا تھا: ہم ایسی درسگاہ چاہتے ہیں جہاں غلام ذہن پیدا نہ ہوں بلکہ وہ نوجوان تیار ہوں جو قوم کے ضمیر بن سکیں۔

قربانیوں سے روشن ہوا جامعہ کا چراغ

حکیم اجمل خان نے جامعہ کے لیے اپنی زمین وقف کر دی،ڈاکٹر مختار احمد انصاری نے اپنی رہائش گاہ “دارالانصار” ادارے کے لیے عطیہ کر دی۔یہ صرف مالی مدد نہیں تھی بلکہ ایک ایمانی عزم اور ملی شعور کا مظہر تھا۔ان قربانیوں نے ثابت کیا کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل اور ایثار سے بنتی ہیں۔

اردو، جامعہ کی روح، تہذیب کی علامت

جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اردو کو نہ صرف ذریعۂ تعلیم کے طور پر اپنایا بلکہ اسے اپنی پہچان اور روح بنا دیا۔یہ وہ وقت تھا جب انگریزی کو ترقی کی علامت اور اردو کو پسماندگی کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔جامعہ نے اس سوچ کو بدل دیا۔ یہاں علم، ادب اور تحقیق اردو میں پروان چڑھنے لگی

تحریکِ آزادی میں جامعہ کا کردار

جامعہ صرف ایک درسگاہ نہیں تھی، بلکہ تحریکِ آزادی کا فکری مرکز تھی۔اس کے اساتذہ و طلبہ نے تحریکِ خلافت، عدم تعاون اور قومی بیداری میں نمایاں حصہ لیا۔ انہوں نے “تعلیم برائے آزادی” کا نعرہ بلند کیا، اور غلامی کے تعلیمی ڈھانچے کے مقابل ایک آزاد نظام تعلیم قائم کیا۔

مہاتما گاندھی اور جامعہ کا روحانی رشتہ

گاندھی جی جامعہ کو “قومی تعلیم کی مثال” اور اس کے بانیوں کو “قوم کے معمار” کہا کرتے تھے۔دہلی میں نیا دور، ترقی کی نئی راہیں. 1925 میں جامعہ دہلی منتقل ہوئی اور جلد ہی ایک مکمل یونیورسٹی کے طور پر ابھری۔1947 کے بعد، آزادی کی فضا میں، جامعہ نے جدید، سیکولر اور تحقیقی نظامِ تعلیم اپنایا۔آج دہلی کے دل میں واقع یہ ادارہ علم، رواداری اور تحقیق کا مرکز ہے۔

جامعہ کی فیکلٹیز اور عالمی شناخت

جامعہ ملیہ اسلامیہ آج ایک مرکزی یونیورسٹی ہے جس میں متعدد شعبے کام کر رہے ہیں:

فیکلٹی آف آرٹس،فیکلٹی آف سوشل سائنسز،فیکلٹی آف انجینئرنگ،فیکلٹی آف لاء،فیکلٹی آف ایجوکیشن،فیکلٹی آف فائن آرٹس،فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز

جامعہ کے صحافت، تعلیم، اور انجینئرنگ کے شعبے عالمی سطح پر معروف ہیں۔یونیسکو، یو این، اور دیگر اداروں میں جامعہ کے فارغ التحصیل طلبہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ریجیجو کا خطاب ،قومی یکجہتی کا پیغام

کرن ریجیجو نے اپنے خطاب میں کہا:جامعہ صرف تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہندوستان کی تہذیبی شناخت ہے۔ یہاں ہر مذہب، ہر زبان اور ہر سوچ کے لوگ ایک مقصد کے لیے جمع ہیں  علم کی خدمت۔انہوں نے مزید کہا:جامعہ کا مقصد صرف تعلیم نہیں بلکہ انسان سازی ہے۔ ہم ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو علم، تحقیق اور اخلاق میں ممتاز ہو۔

خواتین کی شمولیت، ایک روشن روایت

جامعہ نے ہمیشہ خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی۔آج جامعہ میں طالبات کی تعداد طلبہ کے برابر ہے اور کئی خواتین صحافی، اسکالر، اور سائنس دان اسی ادارے کی فارغ التحصیل ہیں۔یہ برابری اور فکری وسعت کا واضح ثبوت ہے۔

اردو کا فروغ، جامعہ کی امانت

جامعہ کا اردو مرکز ملک بھر میں اردو ادب اور تحقیق کا معتبر ادارہ مانا جاتا ہے۔یہاں کے محققین نے نایاب کتابیں، لغات، اور علمی مقالے تحریر کیے۔جامعہ کی لائبریری میں اردو کے قدیم نسخے محفوظ ہیں جو علمی خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جامعہ کا مستقبل، روایت اور جدت کا سنگم

105 سالہ سفر کے بعد جامعہ آج روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے۔یہ ادارہ سیکولر، سائنسی اور تحقیقی فکر کا علمبردار ہے۔بانیانِ جامعہ کا نصب العین آج بھی زندہ ہے:تعلیم برائے خدمتِ انسانیت، علم برائے آزادی، اور علم برائے اخلاق۔

اختتامی پیغام

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاریخ دراصل ہندوستان کی علمی، اخلاقی، اور تہذیبی خودمختاری کی تاریخ ہے۔یہ ادارہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف جنگوں سے نہیں بلکہ تعلیم، اخلاق، اور کردار سے بنتی ہیں۔ 105 سال پہلے جلایا گیا یہ چراغ آج بھی روشن ہے اور آنے والی صدیوں تک یہ علم، انسانیت اور اردو کی شمع کو جلائے رکھے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read