نئی دہلی: مرکزی حکومت نے واٹس ایپ میں متعارف کرائے جانے والے ’یوزر نیم‘ (Usernames) فیچر کے نفاذ کے معاملے پر میٹا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین دن کے اندر تفصیلی وضاحت طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے میٹا کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین دن کے اندر اس نئے فیچر سے متعلق مکمل وضاحت پیش کرے۔ ساتھ ہی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر مشاورت مکمل ہونے تک واٹس ایپ پر ‘یوزر نیم’ فیچر کو بھارت میں نافذ نہ کیا جائے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب میٹا کی جانب سے واٹس ایپ کے لیے متعارف کرائے گئے اس نئے فیچر کے حوالے سے رازداری اور صارفین کی سلامتی سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے۔
یوزر نیم فیچر کیا ہے؟
میٹا کے مطابق یوزر نیم ایک اختیاری اور منفرد شناخت ہوگی، جسے واٹس ایپ صارف اپنے اکاؤنٹ کے لیے منتخب کر سکے گا۔ یہ @ کی علامت سے شروع ہوگی، مثلاً Name123@ اور اس کے ذریعے دوسرے صارفین فون نمبر ظاہر کیے بغیر کسی شخص کو پیغام بھیج سکیں گے یا کال کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یوزر نیم، صارف کے ڈسپلے نیم سے مختلف ہوگا۔ ڈسپلے نیم منفرد ہونا ضروری نہیں، جبکہ ہر یوزر نیم منفرد ہوگا۔
فون نمبر کے بجائے یوزر نیم نظر آئے گا
میٹا نے بتایا کہ جن افراد کے پاس کسی صارف کا فون نمبر محفوظ نہیں ہوگا، انہیں واٹس ایپ پر اس شخص کا یوزر نیم نظر آئے گا۔ یہ صورت حال گروپ چیٹس، براہِ راست پیغامات اور کالز کے دوران بھی لاگو ہوگی۔ یوزر نیم کے آغاز میں ہمیشہ @ کی علامت موجود ہوگی تاکہ اسے ڈسپلے نیم اور فون نمبر سے الگ پہچانا جا سکے۔ کمپنی کے مطابق بعض مخصوص یوزر نیم کاروباری اداروں، سرکاری اداروں اور معروف شخصیات کے لیے محفوظ رکھے جائیں گے اور انہیں دوسرے صارفین اختیار نہیں کر سکیں گے۔
فرضی شناخت اور سائبر جرائم کے خدشات
انٹرنیٹ صارفین اور سائبر ماہرین نے اس فیچر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی کا یوزر نیم بنا سکتا ہے، اس لیے سائبر جرائم پیشہ افراد دوسروں یا سرکاری عہدیداروں سے مشابہ یوزر نیم اختیار کرکے جعلسازی یا فرضی شناخت کا سہارا لے سکتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت اس فیچر کے قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو اسے روکنے کے لیے دستیاب قانونی طریقۂ کار پر بھی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت خاص طور پر فرضی شناخت (Impersonation) کے خدشات کے تناظر میں واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کی قانونی حیثیت اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

