WhatsApp Username Feature: حکومت سے بات چیت مکمل ہونے تک بھارت میں ’یوزرنیم فیچر‘ لانچ نہیں کرے گا واٹس ایپ، جواب داخل کرنے کے لیے مزید تین دن کی مہلت
واٹس ایپ اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین کو موبائل نمبر ظاہر کیے بغیر صرف یوزرنیم کی مدد سے بات چیت کی سہولت فراہم کرنا چاہتا ہے، لیکن مرکزی حکومت نے گزشتہ ہفتے کمپنی کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے اس فیچر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سکیورٹی اور صارفین کے تحفظ سے متعلق امور پر بات چیت مکمل ہونے تک اس فیچر کو نافذ نہ کیا جائے۔
Govt Issues Notice To Meta: مرکزی حکومت نے میٹا کو جاری کیا نوٹس، واٹس ایپ کے ’یوزرنیم‘ فیچر کے حوالے سے تین دن میں دینا ہوگا جواب، فیچر کے نفاذ پر عارضی پابندی
انٹرنیٹ صارفین اور سائبر ماہرین نے اس فیچر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ کوئی بھی شخص اپنی مرضی کا یوزر نیم بنا سکتا ہے، اس لیے سائبر جرائم پیشہ افراد دوسروں یا سرکاری عہدیداروں سے مشابہ یوزر نیم اختیار کرکے جعلسازی یا فرضی شناخت کا سہارا لے سکتے ہیں۔
Aadhaar App: نئے آدھار ایپ کے ڈاؤن لوڈز پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 3.1 کروڑ سے تجاوز، 40 لاکھ صارفین نے موبائل نمبر کیا اپ ڈیٹ کیا
حکومت کے مطابق بھارتی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کی یہ پیش رفت محفوظ، صارف کی رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر پیپر لیس شناختی تصدیقی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس نظام میں آدھار کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔
Adani & Jabil Strategic Alliance: اڈانی انٹرپرائزز اور جبیل کا بھارت میں اے آئی ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر پلیٹ فارم قائم کرنے کا ہدف
اس شراکت داری کے تحت جبیل کی جدید انجینئرنگ، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ مہارت کو اڈانی گروپ کے وسیع انفراسٹرکچر نیٹ ورک، گرین انرجی پورٹ فولیو، لاجسٹکس صلاحیت اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈیٹا سینٹر کاروبار کے ساتھ جوڑا جائے گا، تاکہ دنیا بھر میں اے آئی سے لیس ڈیٹا سینٹر ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔
Drone Manufacturing in India: کانگریس کے ’یووراج‘ کو نہیں معلوم کہ بھارتی نوجوان ڈرون مینوفیکچرنگ میں کیا کمال کر رہے ہیں: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں لاکھوں بھارتی شہری کام کر رہے ہیں، اس لیے لوگوں کا فکرمند ہونا فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی ملک میں بھارتی شہری مشکل میں پھنسے ہیں تو حکومت نے انہیں محفوظ طریقے سے واپس لانے کے لیے پوری کوشش کی ہے۔





