نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن آج یکم فروری کو مرکزی بجٹ 2026-27 پارلیمنٹ میں پیش کریں گی۔ اس بجٹ کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی میں پہلی مرتبہ بجٹ اتوار کے دن پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نرملا سیتارمن ملک کی ایسی پہلی خاتون وزیر خزانہ بن جائیں گی جو مسلسل نویں مرتبہ بجٹ پیش کریں گی۔ بجٹ 2026 کے لیے ملک بھر میں عوام، مڈل کلاس، صنعت، سرمایہ کاروں اور ماہرین اقتصادیات میں زبردست جوش اور توقعات پائی جا رہی ہیں۔ ہر کسی کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ بجٹ میں عام آدمی کو مہنگائی اور ٹیکس کے بوجھ سے بڑی راحت ملے گی یا نہیں۔
بجٹ کی تیاری اور حلوہ تقریب
بجٹ 2026 کی تیاری کے آخری مرحلے کے طور پر 27 جنوری کو نارتھ بلاک کے بجٹ پریس میں روایتی حلوہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن بھی موجود تھیں۔ اس تقریب کے بعد بجٹ کی تیاری سے وابستہ افسران ’لاک ان‘ عمل میں داخل ہو گئے، جس کے تحت بجٹ پیش ہونے تک وہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹ جاتے ہیں تاکہ رازداری برقرار رہے اور کسی بھی قسم کے لیک سے بچا جا سکے۔
اکنامک سروے 2026: معیشت کے لیے مثبت اشارے
29 جنوری کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اکنامک سروے 2026 کے مطابق بھارت کی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ سروے میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں بھارتی معیشت 6.8 سے 7.2 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکتی ہے۔ سروے کے مطابق میکرو اکنامک استحکام، اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مضبوط گھریلو طلب ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ 2026 سے ترقی کو نئی رفتار دینے والے بڑے اقدامات کی امید کی جا رہی ہے۔
مڈل کلاس کو ٹیکس میں بڑی راحت کی امید
بجٹ 2026 سے سب سے زیادہ توقعات مڈل کلاس کو ہیں، جو انکم ٹیکس میں اہم راحت کا انتظار کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت ٹیکس سلیب میں نرمی، اسٹینڈرڈ ڈیڈکشن میں اضافہ اور نئے ٹیکس نظام کو مزید آسان اور پرکشش بنانے کے لیے بڑے اعلانات کر سکتی ہے۔ گزشتہ بجٹ میں 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس میں بڑی رعایت دی گئی تھی، جس سے لاکھوں ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہوا تھا۔ اس بار بھی توقع ہے کہ حکومت ٹیکس میں مزید سہولت دے کر عوام کی قوت خرید بڑھانے کی کوشش کرے گی، تاکہ کھپت میں اضافہ ہو اور معیشت کو تقویت ملے۔
ہیلتھ کیئر، دفاع اور انفراسٹرکچر پر فوکس
بجٹ 2026 میں ہیلتھ کیئر سیکٹر پر خاص توجہ دیے جانے کی امید ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی بہتری، دیہی علاقوں میں طبی سہولیات کی توسیع، میڈیکل ایجوکیشن اور جدید طبی آلات پر سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اسی طرح دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار کو فروغ دینے، دفاعی بجٹ میں 8 سے 10 فیصد تک اضافے اور خود کفالت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری نہ صرف ملک کی سلامتی کو مضبوط کرے گی بلکہ ہزاروں نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ انفراسٹرکچر سیکٹر میں سڑکوں، ریلوے، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور لاجسٹکس پر سرمایہ کاری سے ملک کی معیشت کو نئی رفتار ملنے کی امید ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ میں افورڈیبل ہاؤسنگ، سستی شرح سود اور ٹیکس رعایت سے مکانات کی طلب میں اضافہ متوقع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بجٹ کے دن اتوار ہونے کے باوجود بی ایس ای اور این ایس ای میں معمول کے مطابق ٹریڈنگ ہوگی۔ اس کا مقصد بجٹ اعلانات پر بازار کے فوری ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق بجٹ کے دوران شیئر بازار میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
تاریخی پہلو: بجٹ اور اس کی روایت
قابل ذکر ہے کہ آزادی کے بعد پہلا بجٹ 1947 میں آر کے شنمکھم نے پیش کیا تھا۔ 1955-56 کے بعد سے بجٹ دستاویزات انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی پیش کی جانے لگیں۔ جبکہ 1980 سے بجٹ کی طباعت نارتھ بلاک کے بیسمنٹ میں کی جا رہی ہے، تاکہ رازداری اور سکیورٹی برقرار رکھی جا سکے۔ مجموعی طور پر بجٹ 2026 سے عوام، صنعت اور سرمایہ کاروں کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ٹیکس میں راحت، صحت اور تعلیم پر سرمایہ کاری، دفاعی خود کفالت، انفراسٹرکچر کی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے ذریعے حکومت معیشت کو نئی توانائی اور مضبوط سمت دینے کی تیاری میں ہے۔
مرکزی بجٹ 2026 محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ملک کی اقتصادی سمت طے کرنے والا اہم دستاویز ہوگا۔ اگر حکومت عوامی توقعات کے مطابق فیصلے کرتی ہے تو یہ بجٹ نہ صرف عام آدمی کے لیے راحت کا پیغام بن سکتا ہے بلکہ بھارت کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




